Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

أسري بعبده ليلا من المسجد الحرام الى المسجد الاقصى ـــــــــ یہ فقرہ اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے ذات نبوت کے بارے میں ہے مگر اسی کے ساتھ اس کا ایک وسیع تر مفہوم بھی ہے جس کا تعلق پوری امتِ محمدی سے ہے۔ پیغمبرِ اسلام کو ایک لمحے میں ۴۰ کلومیٹر کا دو طرفہ سفر کرانا گویا کہ علامتی طور پر پوری امت کو یہ بتانا تھا کہ اس دین کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تیز رفتار سفر کا دور شروع کر دیا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کو عالمی پیغمبر بنانے کے ساتھ تھی یہ امکان بھی کھول دیا گیا ہے کہ آپ کے امتی سہولت آپ کے دین کی عالمی پیغام رسانی کر سکیں۔

سفر اسراء میں اس بات کا اشارہ تھا کہ اس نے دور کا سب سے اہم پہلو کمیونی کیشن ہوگا نہ کہ سیاسی اقتدار۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب یہ دور اپنے عظیم امکانات کے ساتھ ظاہر ہوا تو تمام دنیا کے مسلمان سیاسی اقتدار کے مسئلہ میں الجھ گئے۔ وہ دین خداوندی کی دعوت کو عام کرنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کا استعمال نہ کر سکے ۔

اس نا کامی کا اصل سبب حکمت نبوت سے محرومی ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہمارے علماء اور دانشور، اس حکمت نبوی سے بالکل بے خبر ہیں جس کی ممتاز مثال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر اسراء میں پائی جاتی ہے۔ جس وقت آپ کا یہ سفر ہوا، اس وقت یروشلم پر ایک مشرک بادشاہ کی حکومت قائم تھی۔ اس کے با وجود آپ بجسدہ الشریف وہاں گئے اور تمام نبیوں کے ساتھ مسجد اقصی میں ایک خدا کی عبادت کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی ایک سنت الفصل بین القضیتین ہے۔ یعنی سیاسی اشوکو الگ کر کے دینی مواقع کو استعمال کرنا۔ مگر اس حکمت سے بے خبر ہونے کی بنا پر ہمارے تمام رہنما سیاسی مسائل میں الجھ گئے اور نئے دینی امکانات کو استعمال کرنے میں ناکام رہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، الرسالہ نومبر ۱۹۹۵)

۲۸ اگست کا دن خالی تھا۔ اس لیے آج تفصیل کے ساتھ یروشلم کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ مجھے خاص دل چسپی اس حصہ سے ہی جو عرب سکرلہا جاتا ہے اور یہیں تمام مقامات مقدسه واقع ہیں۔ اس علاقہ میں کثرت سے تنگ گلیاں ہیں ۔ اس لیے ہم نے گاڑی چھوڑ دی۔ تاکہ اس کے ہر حصہ میں داخل ہوکر اس کو دیکھا جا سکے ۔ ایک چیز بڑی عجیب تھی کہ اس علاقہ کی دیواروں پر

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page