Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

تصویروں کی صورت میں دکھایا گیا ہے۔ ترکی عہد کی بہت سی تصویریں یہاں خوب صورت فریم میں لگی ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ نمایاں تصویر فلسطین کے ترک حاکم جمال پاشا کی تھی۔ وہ ایک شاندار گھوڑے پر بیٹھے ہیں۔ میں دیر تک اس کو دیکھتا رہا، گھوڑا اللہ تعالیٰ کی ایک عجیب نعمت ہے۔ جو شان گھوڑے کی سواری میں ہے وہ کسی بھی دوسری سواری میں نہیں۔

ہم لوگ کھانا کھا چکے تو شیشہ کے گلاس نما برتن میں آئس کریم لا کر سب کے سامنے رکھی گئی۔ میں چمچہ اٹھا کر کھانا چاہتا تھا کہ ہوٹل کا ایک نوجوان کارکن اچانک آیا، اس نے میری آئس کریم اور چمچہ تیزی سے اٹھا لیا، اور پھر دوسری آئس کریم اور دوسرا چمچہ لا کر رکھ دیا۔ فوری طور پر میں اس کا راز سمجھ نہ سکا۔ بعد کو معلوم ہوا کہ آئس کریم میں الکحل کی آمیزش تھی ۔ نوجوان نے میری صورت سے سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ چنانچہ فوری طور پر اس نے الکحل کے بغیر دوسری آئس کریم تیار کی اور جلدی سے لا کر اس کو میرے سامنے رکھ دیا اور پچھلی آئس کریم کھانے سے مجھ کو بچا لیا۔ اس نوجوان سے مل کر میں نے اس کے بارے میں دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ فلسطینی مسلمان ہے اور اس کا نام بھجت ہے۔ میں نے اس کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔ وہ عربی بولتا تھا اور بظاہر نہایت ذہین اور مستعد نوجوان تھا۔

یورپ کے ایک تعلیم یافتہ مسیحی جو اکثر یروشلم آتے رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق، بہت تھوڑے یہودی ہیں جو مسجد اقصی کو توڑ کر اس کی جگہ سلیمانی ہیکل دوبارہ بنانے کی بات کرتے ہیں۔ بیشتر یہودی اس کے مخالف ہیں۔ مذہبی یہودیوں کے نزدیک دو ہزار سال پہلے جب رومن اس میں داخل ہوئے اور اس کو ڈھا دیا تو اب یہ جگہ ناپاک ہو چکی ہے۔ مسیحا جب آئیں گے تو وہی دوبارہ اس کو پاک کریں گے۔ دوسرے یہ کہ یہودیوں کے یہاں عبادت گاہ کا خاص مقصد سوختنی قربانی پیش کرنا ہوتا ہے۔ تعلیم یافتہ یہودی اس قسم کی قربانی کو غیر مہذب سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ کبھی نہیں چاہتے کہ ہیکل دوبارہ تعمیر ہو۔ اور وہاں اس قسم کے غیر مہذب کام دوبارہ کیے جانے لگیں۔

عرب علاقہ میں چلتے ہوئے ایک جگہ کچھ فلسطینی بچے نظر آئے۔ قریب پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ کورس (chorus) کی صورت میں ایک پر جوش ترانہ (أنشودة حماسیة) گا رہے ہیں۔ یہ شعر کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page