Al-Risala · September 1997 · page

Kelaty Trading Company

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

اصطلاح میں ایک ترجیع ت۸ھا جس میں ہر چند مصرعوں کے بعد اس شعر کی تکرار ہوتی تھی کہ آؤ ہم جنگ کریں، آؤ ہم جنگ کریں۔ کیوں کہ جنگ ہی رشد و فلاح کا راستہ ہے:

هَلُمُّوا نُقَاتِلُ هَلُمُّوا نُقَاتِلُ فَإِنَّ الْقِتَالَ سَبِيلُ الرَّشَادِ یہ تراز شریعت کے خلاف بھی ہے اور عقل کے خلاف بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ھ میں دس ہزار صحابہ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف مارچ کیا تو ایک سردار کی زبان سے نکلا: (الیوم یوم الملحمة (آج گھمسان کی جنگ کا دن ہے) آپ نے فرمایا نہیں۔ آج رحمت کا دن ہے (اليوم يوم المرحمة)

وہ عقل کے خلاف اس لیے ہے کہ موجودہ زمانہ کی تبدیلیوں نے جنگی اقدامات کے بجائے پر امن جد و جہد کو طاقت کا سر چشمہ بنا دیا ہے۔ میں نے سوچا کہ فلسطینی قیادت ، اگر حدیث کے الفاظ میں اپنے زمانہ سے باخبر (بصیراً بزمانہ) ہوتی تو وہ اپنی نئی نسل کو جنگ کے بجائے امن کا سبق دیتی۔ اور آج بر عکس طور پر، ہر فلسطینی بچہ کی زبان پر یہ الفاظ ہوتے : هَلُمُّوا نُسَالِمْ هَلُمُّوا نُسَالِمْ فَإِنَّ السَّلَامَ سَبِيلُ الرَّشَادِ (آؤ امن کی روش اختیار کریں آؤ امن کی روش اختیار کریں۔ کیونکہ امن ہی رشد و کامیابی کا راستہ ہے) ایک عرب عالم سے جہاد (بحمنی قتال) کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ قرآن میں جنگ کا حکم اسلام کی اشاعت کے لیے دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح نہیں۔ قرآن میں کہیں یہ نہیں لکھا ہے کہ جنگ کر کے اسلام کی اشاعت کرو۔ قرآن میں صرف یہ ہے کہ فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ان سے جنگ کرو (۱۹۳ : ۲)

اس آیت میں فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے ۔ جب مذہبی جبر ختم ہو جائے تو جنگ کا حکم اپنے آپ ساقط ہو جاتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے نماز کے لیے تیمم کی اجازت دی جائے جب کہ پانی نہ ہو۔ پھر جب پانی آ جائے تو اپنے آپ تیمم کی اجازت ختم ہو جائے گی۔ آب آید تیمم برخاست ۔

میں نے کہا کہ بخاری میں یہ روایت ہے کہ فتنہ ابن الزبیر کے زمانہ میں کچھ مسلمانوں نے اپنی اس جنگ کے لیے قتال برائے ختم فتنہ کی آیت کو استعمال کیا تو اس وقت حضرت عبداللہ بن عمر نے

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page