Yossi Beilin-Arrigo Levi-Feisal Husseini
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
اسرائیل کے شہری مسلسل طور پر اپنے کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کو تحفظ دینے کے لیے اسرائیلی ریاست ہر سال اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کرتی ہے۔ اسرائیلی حکومت کو یہ مہنگا خرچ منظور ہے مگر اس کو یہ منظور نہیں کہ وہ فلسطینیوں کو ان کا جائز حق دے دے۔ اور اس طرح فلسطین میں عدم تحفظ کی صورت ہال کا خاتمہ کر دے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ بجٹ والا مسئلہ صرف خرچ کا مسئلہ ہے، جب کہ حقوق دینے کا مسئلہ ان کے لیے قومی وقار کا مسئلہ ہے۔ اور تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ قومیں اپنے وقار کا جھنڈا کسی حال میں نیچے اتارنے پر راضی نہیں ہوتیں خواہ اس کے نتیجہ میں انھیں سوگنا زیادہ بڑے نقصان کو برداشت کرناپڑے۔ اطالوی مسیحی تنظیم (Community of St. Egidio) کی طرف سے یروشلم میں جو انٹرنیشنل کانفرنس (۲۹-۳۰ اگست (۱۹۹۵) منعقد کی گئی، اس کا شعار یہ تھا :
Together in Jerusalem: Jews, Christians and Moslems اس کانفرنس میں ۳۰ اگست کی صبح کو "راونڈ ٹیبل" کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان ایک پولیٹیکل ڈائیلاگ تھا۔ اس میں فلسطینیوں کی طرف سے مسٹر فیصل حسینی شریک تھے جو سابق مفتی اعظم فلسطین کے صاحبزادے ہیں۔ اسرائیل کے نمائندہ کی حیثیت سے اس کے اکونمی اور پلاننگ شعبہ کے منسٹر مسٹر یوسی بیلین موجود تھے ۔ درمیانی مددگار کی حیثیت سے اٹلی کے سینیر جرنلسٹ مسٹر آریگو لیوی تھے ۔
۳ اگست کی صبح کو میں یروشلم کے نوٹر ڈیم سنٹر (Notre Dame Centre) پہنچا تو وہاں کے وسیع ہال میں ایک طرف سامعین کی کرسیاں مکمل طور پر بھری ہوئی تھیں۔ دوسری طرف اسٹیج پر ایک لمبی میز تھی جس پر تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ ایک فلسطینی نمائندہ کے لیے ، دوسری اسرائیلی نمائندہ کے لیے ، اور تیسری درمیانی کرسی اطالوی صدر کے لیے۔ میز پر ناموں کی تختیاں حسب ذیل ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی تھیں :
Yossi Beilin-Arrigo Levi-Feisal Husseini
ٹھیک دس بجے تینوں صاحبان پیچھے کے دروازہ سے حال میں داخل ہوئے ۔ میری نشست اگلی کرسی پر عین اسٹیج کے سامنے تھی ، اس لیے میں ان کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ پرشوق سامعین
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues