With peace every thing, without peace nothing.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
میں جو باتیں بعد کے زوال یافتہ مسلمانوں کے بارے میں کہی گئی ہے، اس سے اس طرح چشم پوشی اختیار کرلی ہے جیسے کہ وہ کسی اور گروہ کے بارے میں ہوں۔
ایک یہودی دانشور جو آج کل امریکہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی تجویز تو بڑی اچھی ہے، مگر کیا یہ ممکن بھی ہے۔ میں نے کہا کہ یقینی طور پر ممکن ہے۔ اور وہ اس طرح کہ آپ فلسطینی عربوں کو وہی شہری حقوق اور وہی مذہبی آزادی دینے کے لیے تیار ہو جائیں جو آپ خود امریکہ میں حاصل کیے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ وہاں آپ کو یکساں شہری حقوق ملے ہوئے ہیں۔ یہی آپ دل سے فلسطینیوں کو دے دیں۔ اس کے بعد یہ تجویز سراسر قابل عمل ہو جائے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف تھوڑے لوگ ہوتے ہیں جو سیاسی آرزوئیں اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ بیشتر لوگوں کی دل چسپی صرف اس سے ہوتی ہے کہ انھیں یکساں شہری حقوق حاصل ہوں۔ وہ آزادانہ طور پر اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ ان کے لیے تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے مواقع کھلے ہوئے ہوں۔ ان کو اپنے ماحول میں عزت و احترام ملا ہوا ہو۔ اگر کوئی حکومت عام شہریوں کو یہ چیزیں دے دے، جیسا کہ امریکہ اپنے شہریوں کو دیے ہوئے ہے تو سیاسی شورشیں اپنے آپ ختم ہو جائیں گی۔
میں نے سنا تھا کہ اسرائیل میں خوف وہراس کا ماحول ہونے کی وجہ سے وہاں ہارٹ اٹیک کے واقعات بہت ہوتے ہیں۔ اس کی ایک تصدیق غالباً یہ تھی کہ میں نے ایک اشتہار دیکھا اس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل میں ایک نئی ہارٹ لائن ٹکنالوجی ڈولپ کی گئی ہے۔ اس کے مطابق آدمی کے ٹیلی فون سے جیبی سائز کا ایک ٹرانسمیٹر وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعہ ممکن ہو جاتا ہے کہ بوقت ضرورت آدمی فی الفور میڈیکل سنٹر سے ربط قائم کر سکے اور ذاتی طور پر میڈیکل سنٹر پہنچے بغیر اس کی ای سی جی جانچ ہو جائے اور فوری طور پر وہ طبی مشورہ حاصل کر سکے۔ اس اشتہار کے چند الفاظ یہ تھے :
Heart attacks are still today's No. 1 Killer, But Heartline can help in saving lives.
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues