One open city with two capitals.
الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷
یہ تجویز خواہ نظریاتی طور پر کتنی ہی خوب صورت ہو مگر عملاً وہ ممکن نہیں۔ قابل لحاظ بات یہ ہے کہ اصل مقصود مذہبی مقصد کے لیے آزادانہ داخلہ ہے اور وہ بالفعل ہر ایک کو یہ وشلم میں حاصل ہے۔ یہ آزادی اسرائیل کی کسی عنایت کی بنا پر نہیں ہے بلکہ زمانی تبدیلی کی بنا پر ہے۔ موجودہ زمانہ میں مذہبی آزادی کا جو انقلاب آیا ہے اور جس کی ضمانت خود اقوام متحدہ نے دے رکھی ہے۔ اس نے ناقابل تنسیخ انداز میں اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ ہر شخص ہر جگہ جا سکے، بشر ط طرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ وہ جہاں بھی جائے ہر جگہ وہ امن کی روش پر قائم رہے۔
۳۰ اگست کی شام کو سی این این (CNN) کے نمائندہ جیروڈکیسل(Jerrold (Jerrold Kessel) اور ان کی ٹیم نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ابتداء انھوں نے صرف پانچ منٹ کے انٹرویو کے لیے کہا تھا۔ مگر جب انٹرویو شروع ہواتو وہ آدھ گھنٹہ تک مسلسل بات کرتے رہے۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ آپ کا انٹرویو بہت دل چسپ رہا۔
تمام سوالات اسلام کے بارہ میں تھے ۔ ان کے سوالات کسی قدر جار حانہ ہوتے تھے۔ مگر میں خدا کے فضل سے نہایت معتدل انداز میں ان کا جواب دیتا رہا۔ ایک سوال یہ تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اپنا رول ختم کر چکا ہے۔ میں نے کہا کہ میرا تو خیال یہ ہے کہ اسلام از سر نو اپنا رول ادا کرنے کے لیے ابھر رہا ہے۔ کچھ سال پہلے تک لوگ کمیونسٹ آئیڈیا لوجی پر اعتماد کیے ہوئے تھے۔ مگر سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد اب ساری دنیا میں ایک قسم کا نظریاتی خلا (ideological vacuum) پیدا ہو گیا ہے۔ اس خلا کو صرف اسلام ہی پُر کر سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بظاہر تو اسلام اس خلا کو پُر کر تا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو اس کے برعکس یہ نظر آرہا ہے کہ آج اسلام ساری دنیا کا مرکزِ توجہ بن گیا ہے۔ آپ کے ملک میں، ہیوی ویٹ چیمپین(ٹائسن)نے (ٹائسن) نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ برطانیہ میں ایک بہت اونچے خاندان کی لڑکی (جمائما) اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی ہے۔ فرانس میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص (گارودی) نے قبول اسلام کا اعلان کر دیا ہے، وغیرہ۔
کناڈا کی ٹی وی کمپنی (Villagers Communication) کے نمائندہ اسٹیوڈی می (Steve Dawn Deme) اور ان کی پارٹی نے ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات زیادہ تر
‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues