Al-Risala · September 1997 · page

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۷

مسلمانوں کی موجودہ حالت کے بارے میں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں نے کہا کہ آپ کوچاہیے کہ مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھیں نہ کہ مسلمانوں کی روشنی میں اسلام کو رہتا ہے، تمہیں مسلمانوں کو اسلام کی روشنی میں دیکھنا چاہیے نہ کہ اس کے برعکس۔ You have to judge Muslims by Islam and not vice versa. تیسرا انٹرویو بی بی سی (ٹی وی) کی خاتون نمائندہ جانا بیرس (Jana Beris) کا تھا۔ مگر وقت کی کمی کے باعث وہ بہت مختصر رہا۔

مسلمانوں میں روایتی طور پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ یہودی بحیثیت قوم ہمیشہ کے لیے محتاج اور ذلیل کر دیے گئے ہیں۔ قتادہ نے کہا کہ تم کسی بھی ملک میں کسی یہودی سے ملو تو تم پاؤ گے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل ہے ( لا تلقى يهودياً فى بلد الا وقت وجدته من اذل الناس) تفسیر النسفی ۲۹۲/۱ موجودہ زمانہ میں معاملہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں یہودی لوگوں کے درمیان کم از کم ظاہری طور پر باعزت جگہ پائے ہوئے ہیں اور مسلمان عملاً ہر جگہ بے قیمت ہورہے ہیں۔ حتیٰ کہ اقبال نے کہا :

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود

ممکن ہے کہ ضربت عليهم الذلة والمسكنة (البقره ۶۱) سے مراد یہودیوں کی وہ نسل ہو جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی معاصر تھی۔ اور مسلمان اس شعر کے مصداق ہوں : وہ زمانہ میں معزز تھے مسلماں ہو کر ہم ہوئے خوار و زبوں تارکِ قرآن ہو کر اسحاق نافون (Yitzhak Navon) پہلا اسرائیلی صدر ہے جس نے ستمبر ۱۹۸۰ میں مصر کا دورہ کیا۔ اس کو قاہرہ کے قصر عابدین میں ٹھہرایا گیا تھا۔ اسرائیلی صدر نے قاہرہ کے استقبالیہ جلسہ میں فصیح عربی میں تقریر کی۔ اس میں اس نے مصریوں کو دعوت دی کہ وہ اسرائیل آئیں اور وہاں آزادانہ طور پر لوگوں سے ملیں۔ اگر آپ ہم کو دوست سمجھیں تو دوست دوست سے ملتا ہے۔ اور اگر آپ ہم کو دشمن سمجھیں تو عربی مثل ہے کہ اپنے دشمن کو پہچانو :

اذاکنتم تعتبرو ننا اصدقاء فالصد یق یزور صديقه واذاکنتم تعتبر وننا اعداء نا لمثل العربي يقول : ! اعرف عدوك -

‹ Previous page Next page › Contents of September 1997 All issues

Printed page