Al-Risala · October 1997 · page 2

سفر نامہ فلسطین ۷

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲

سفر نامہ فلسطین ۷

مسلم اخباروں میں اکثر ایسی تصویریں چھپتی ہیں جن میں کچھ اسرائیلی سپاہی فلسطینی کو مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس تصویر کے اوپر یہ عنوان ہوتا ہے : اسرائیلی پولیس کی بربریت۔

لیکن اگر آپ دوسرے اخبارات کو دیکھیں تو یہی پولیس خود اسرائیلیوں کے خلاف ایسی ہی "بربریت" کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیلی پولیس کی "بربریت " کسی فلسطینی پر محض فلسطینی ہونے کی بنا پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے مخالفانہ رویہ کی بنا پر ہوتی ہے۔ جو فلسطینی صرف اپنے کام سے کام رکھنا چاہتے ہیں، وہ آج بھی اسرائیل میں پر امن طور پر رہ رہے ہیں۔ مگر جو فلسطینی سیاسی حریف بنتے ہیں یا تشدد کا فعل کرتے ہیں ان کے اوپر پولیس بھی کارروائی کرتی ہے۔ پولیس یہی کارروائی خود یہودیوں پر بھی اس وقت کرتی ہے جب کہ وہ سیاسی ہنگامہ کریں یا تشدد اور تخریب کاری کریں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم صحافت نے ہر جگہ ایک مجرمانہ رول ادا کیا ہے۔ ہر سماج میں اور ہر زمانہ میں عُشر اور یُسر ساتھ ساتھ موجود رہتے ہیں۔ یعنی منفی واقعات بھی اور مثبت واقعات بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلم اخبارات نے یہ کیا کہ انھوں نے ہر جگہ صرف منفی پہلوؤں کی رپورٹنگ کی اور مثبت پہلوؤں کو سرے سے بیان ہی نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر جگہ کے مسلمان اپنے ملک اور اپنے سماج کے بارے میں منفی ذہنیت کا شکار ہو گئے۔ وہ یہ سمجھنے لگے کہ دنیا کی قومیں ان کی دشمن ہیں اور ان کے خلاف سازش کرنے میں مشغول ہیں۔ چنانچہ وہ تمام قوموں کے خلاف نفرت اور عداوت کی نفسیات میں مبتلا ہو گئے۔ اسی نفسیات کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر ملک میں ، بشمول فلسطین مسلمانوں کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں مگر وہ عین مواقع کے درمیان ان کو استعمال کرنے سے محروم ہیں۔

ایک مسلم دانشور جنھوں نے فلسطین کے مسئلہ پر کئی کتابیں لکھی ہیں، ان سے میں نے کہا کہ اسرائیلی حکومت لوگوں کو ویزا دینے میں بڑی فراخ دل ہے۔ اس کا سبب کیا ہے۔ انھوں نے طنزیہ انداز میں جواب دیا : اس کا سبب تو واضح ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ لوگ زیادہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page