Al-Risala · October 1997 · page 3

سفر نامہ فلسطین ۷

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۳

سے زیادہ ان کے یہاں جائیں اور ان کی ترقیوں کو دیکھیں۔

اس کی ایک مثال ہندستان کے مشہور قانون داں مسٹر نانی پالکھی والا ہیں، انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ اسرائیل کا پانچ روزہ (۱۲-۱۶ جون ۱۹۹۴ء) دورہ کیا۔ اس سفر کے بعد مسٹر پالکھی والا نے ایک آرٹیکل لکھا جو نیوز فرام اسرائیل (News from Israel) کے شمارہ جولائی۔ اگست ۱۹۹۴ء میں شائع ہوا ہے۔ یہ پرچہ بمبئی میں واقع اسرائیلی قونصل (Consulate of Israel) کی طرف سے شائع کیا جاتا ہے۔ مسٹر پالکھی والا کے مذکورہ آرٹیکل کے کچھ اقتباسات علاحدہ صفحہ پر یہاں نقل کیے جارہے ہیں۔

اس آرٹیکل کو پڑھنے کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ جو مسلمان اس طرح کی باتوں پر غصہ ہوتے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ مسلم ملکوں کو آمادہ کریں کہ وہ بھی اپنے یہاں ایسے واقعات رونما کریں جس کو لوگ آکر دیکھیں اور پھر واپس جا کر اس کی تعریف میں مضامین شائع کریں۔ جیسا کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں تھا۔ اس وقت دنیا بھر کے لوگ بغداد اور قرطبہ اور غرناطہ کو دیکھنے کے لیے آتے تھے اور پھر واپس جا کر اپنے ہم وطنوں سے اس کا شاندار تذکرہ کرتے تھے۔ حدیث میں آیا ہے کہ خالفوا الیهود (یہود کے خلاف عمل کرو) اس کا مطلب اس سفر میں میری سمجھ میں آیا۔ یہاں ”یہود“ کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ یہ حدیث یہود کی گروہی مخالفت کے معنی میں نہیں ہے۔ وہ دراصل ظاہر پرستی والے دین کے خلاف ہے جو دورِ زوال میں یہود کے اندر بہت زیادہ آگئی تھی۔

حدیث میں ہے کہ یہود جوتا پہن کر نماز نہیں پڑھتے ، اس لیے تم اس کے خلاف کرو۔ چنانچہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتا پہن کر نماز پڑھی (مشکاۃ المصابیح ۲۳۸/۱) اسی طرح آپؐ نے افطار میں تعجیل کرنے کی ہدایت فرمائی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہودی افطار میں تاخیر کرتے ہیں (لأن اليهود يؤخرون) سنن ابی داؤد ۳۱۵/۲ اس کی حکمت یہ ہے کہ یہود کے یہاں دین کی داخلی روح ختم ہو گئی تھی، البتہ وہ ظواہر کا خوب اہتمام کرتے تھے۔ مثلاً ان کا کہنا تھا کہ جوتا اتار کر عبادت کرنا افضل ہے اور جوتا پہن کر عبادت کرنا غیر افضل۔ اسی طرح یہودی اس کو متقیانہ احتیاط بتاتے تھے کہ روزہ افطار کرنے میں

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page