Al-Risala · October 1997 · page 10

Your own apartment in the promised land

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۰

ہوۓ ہیں۔ یہ قدس اسپرٹ کے سراسر خلاف ہے۔

ایک یہودی عالم جو اچھی عربی جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ قدس کو ہم اپنا حق اس لیے کہتے ہیں کہ ہماری کتابوں ہی میں نہیں بلکہ خود آپ کی مقدس کتاب قرآن میں بھی اس کو ہمارا حق بتایا گیا ہے۔ جب کہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا ہے کہ قدس مسلمانوں کو دے دیا گیا۔ اس نے کہا کہ آپ لوگ قدس کو قبلہ اول کہتے ہیں مگر وہ قبلہ اول کہاں ہے وہ تو قبلہ عارضی تھا۔ آپ کے پیغمبر پہلے کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ پھر وقتی طور پر کچھ دنوں بیت المقدس کو قبلہ بنایا اور اس کے بعد پھر کعبہ کو قبلہ بنالیا۔ آپ کے عقیدہ کے مطابق، آپ کے پیغمبر نے یروشلم آکر یہاں نماز پڑھی۔ اس وقت یہاں غیرمسلموں کی سیاسی حکومت قائم تھی۔ آپ بھی ہماری سیاسی حکمرانی کے تحت یہاں آکر نماز پڑھے۔ ہم آپ کو نہیں روکتے۔ میں نے جواب دیا کہ اس مسئلہ پر مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان سنجیدہ انداز میں ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔

پاکستان میں اگر آپ جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہاں ہر چیز کو اسلامائز کر لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ایک فلم کمپنی اپنی کسی فلم کو ریلیز کرنے والی ہوگی تو اس کا اشتہار ان الفاظ میں شائع کیا جائے گا ـــــــــ " ان شاء اللہ، اگلے جمعہ کو ہماری نئی فلم ریلیز کی جائے گی" یہی معاملہ اسرائیل کا ہے۔ وہاں ہر چیز کو یہودی رنگ دیا گیا ہے۔ مثلاً یروشلم کی ایک جدید کالونی کا نام قریہ داؤد (David's Village) ہے۔ ایک اور کالونی کا اشتہار میں نے دیکھا۔ اس کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا کہ ارض موعود میں آپ کا اپارٹمنٹ :

Your own apartment in the promised land

ایک اخبار میں ایک اسرائیلی کمپنی کا اشتہار دیکھا۔ جس کا کام تل ابیب میں نجی جائیدادوں کا انتظام (property management) کرنا ہے۔ اشتہار میں گھر کی دیکھ بھال اور اس کے انتظّام کے سلسلہ میں ماتورں کا فکر کرتا، ان میں سے ایک یہ بھی تھا ۔ اور ہم حفاظت کا

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page