سفر نامہ فلسطین ۷
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۹
دیا کہ وہ یورپ کی مدد سے مصر پر حملہ کرے اور اس کی فوجی طاقت کو توڑ دے ۔ اگر نااہل عرب قیادت احمقانہ غلطی نہ کرتی تو یہ علاقے تو اسے از خود حاصل تھے ۔ مسلمان عام طور پر قدس کے مسئلہ کو قبلہ اول کی بازیابی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ مگر یہ بات کسی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ۱۳ سال تک کعبہ کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے رہے۔ اس لیے ”قبلہ اول“ کا لفظ اگر کسی کے لیے بولا جا سکتا ہے تو وہ خود کعبہ ہے۔ ہجرت کے بعد تقریباً ۱۷ مہینہ تک آپ نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ اس کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آیا اور ہمیشہ کے لیے کعبہ مسلمانوں کا قبلہ عبادت بن گیا۔ اس تاریخ کے مطابق ، بیت المقدس قبلہ درمیانی ہے نہ کہ قبلہ اول ۔
دوسری اہم تر بات یہ ہے کہ قدس میں جو اصل اسلامی سبق ہے ، وہ قومی یا سیاسی یا جغرافیائی نوعیت کا نہیں ہے ۔ وہ ان جھگڑوں سے مکمل طور پر الگ ایک اور سبق ہے ۔ اور وہ مدعو کی تالیف قلب ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد بیت المقدس کو قبلہ کیوں بنایا ۔ اس کی وجہ مسلمہ طور پر یہود کی تالیف قلب تھی جو رسول اللہ کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ، ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ کے لیے دو صورتیں تھیں ۔ ایک یہ کہ سابق کی طرح کعبہ کو قبلہ بنائیں ۔ دوسری صورت یہ تھی کہ مدینہ کے یہود کی پیروی کریں جو بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے ۔ آپ نے قدس کا انتخاب فرمایا ، اس طمع میں کہ یہود آپ کی طرف مائل ہوں گے اور ایمان لائیں گے (فاختار المقدس طمعاً في ايمان اليهود واستمالتهم) الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ، ۱۵۰/۲ گویا قدس کا اصل سبق یہ ہے کہ مدعو کی رعایت یہاں تک کرو کہ ان کے قبلہ کو اپنا قبلہ بنالو۔ آج اگرچہ ہمیں قبلہ بدلنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تاہم بہت سے دوسرے معاملات ہیں جن میں مدعو قوموں کی رعایت کر کے انھیں اسلام کے قریب لایا جا سکتا ہے ۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان اس سنت رسول سے مکمل طور پر بے خبر ہیں ، خواہ وہ فلسطین کے مسلمان ہوں یا دوسرے ملکوں کے مسلمان ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان غیر مسلم قوموں سے ہر جگہ رقابت قائم کیے
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues