Global business is our future.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲
سامنے رکھ کر مذکورہ ایکسپرٹ اپنی تحریر کو دوبارہ تیار کرتا ہے۔ وہ فوراً ہی عالمی پریس کے نام روانہ کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح صرف ایک یا دو دن میں یہودی نقطہ نظر عالمی پریس میں آجاتا ہے۔ میری تمنا ہے کہ میں بھی دعوتی مقصد کے تحت اس قسم کا ایک انٹرنیشنل ادارہ قائم کروں۔ یہ ادارہ جدید کمیونی کیشن کو استعمال کرکے ان شاء اللہ عالمی اسٹیج پر دعوت کی منصوبہ بندی کرے گا اور اس سلسلہ کے ضروری کام انجام دے گا۔ اور یہ سب کچھ رسمی میٹنگ کے بجائے ٹیلی فون، فیکس، انٹرنٹ کے ذریعہ انجام پائے گا۔ و ما ذلک علی اللہ بعزین۔ یروشلم میں مخصوص انداز کی ایک یادگار تعمیر کی گئی ہے۔ اس کا انگریزی نام (Homage to Jerusalem) ہے۔ اس کو تین مذہبوں کا یروشلم کہا جاتا ہے: Jerusalem: The Three Religions اس میں تینوں سامی مذہب کے علامتی تقدس بنائے گئے ہیں۔ ان کو بتاتے ہوئے ایک یہودی نے کہا:
ایک صاحب سے مہدی سوڈانی کا تذکرہ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ مہدی سوڈانی نے اگرچہ عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کر لی تھی۔ مگر وہ کوئی معتدل آدمی نہیں تھے ۔ انھوں نے بتایا کہ مصر کے حکمراں محمد علی پاشا نے ۱۸۳۵ میں سوڈان پر حملہ کیا تھا۔ مہدی سوڈانی کو اس کی خبر ملی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ دریائے نیل کے راستہ سے سوڈان پہنچنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے مریدوں کی مجلس میں کہا کہ وہ دریائی راستہ سے سوڈان پہنچنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ کیوں کہ خدا کی قسم، میں دریا کا سارا پانی پی کر اس کو خشک کر دوں گا (نااللہ اشرب البحر --) فلسطین (اسرائیل) کا ایک شہر حیفا ہے۔ یہاں پانچ مذہب کے لوگ رہتے ہیں اور ہر ایک کی عبادت گاہیں اور مذہبی ادارے وہاں موجود ہیں۔ یہودی ، مسلمان ، عیسائی، دروزی، اور بهایی۔ عرب مسلمانوں کی تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ کے قریب ہے، اور یہود، سلمان، عیسائی، ہے، اور وہاں کے باشندے، یہودی، مسلمان، عیسائی، دروزی اور بہائی ۔ عرب مسلمانوں کی تعداد ۸۰ فی صد سے کچھ اوپر ہے۔ ایک یہودی نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھئے، یہ سب لوگ کس طرح رواداری کے ساتھ یہاں رہ رہے ہیں:
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues