Global business is our future.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۳
بہائی فرقہ دنیا میں پانچ ملین ہے۔ حیفہ میں ماؤنٹ کارمل کے اوپر اس کا مرکز ہے جس کا سنہرا گنبد دور سے دکھائی دیتا ہے۔ بہائی مذہب ایران میں ۱۸۴۴ میں وضع کیا گیا۔ اس کے بانی کا نام باب اللہ تھا۔ حکومت ایران سے ان کا اختلاف ہوا۔ حکومت نے ان کے ۲۰ ہزار آدمیوں کو قتل کرا دیا۔ اس کے بعد اس مذہب کو ماننے والے دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گئے۔ اسرائیل کے قیام کے بعد ۱۹۴۸ میں انھوں نے یہاں اپنا مرکزی دفتر قائم کیا۔ ۱۹۵۳ میں موجودہ عمارت بن کر مکمل ہوئی۔ ایک بہائی نے کہا :
اسرائیل میں بہائیوں کی تعداد ایک سو سے کچھ زیادہ ہے۔ تاہم ان کے افراد بڑی تعداد میں یہاں ”زیارت“ کے لیے آتے رہتے ہیں۔ بہائی اپنے مذہب کو یونیورسل مذہب کہتے ہیں۔ ان کے یہاں شادی بیاہ پر کوئی پابندی نہیں۔ وہ وحدتِ ادیان کی وکالت کرتے ہیں۔ ایک بہائی نے کہا :
اسرائیل کے زمانہ قیام میں کئی بار میں نے دیکھا کہ یہودی کس طرح یہاں ایک شاندار زندگی گزار رہے ہیں۔ ”کیا یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے“ میں نے سوچا۔ میری سمجھ میں آیا کہ لعنت کا کوئی لازمی تعلق خوش حالی یا بدحالی سے نہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ کوئی فرد یا قوم خدا کے نزدیک لعنت زدہ ہو مگر موجودہ دنیا میں وقتی طور پر وہ شاندار قسم کی مادی زندگی حاصل کرلے۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں، ملعون ہونے کا مطلب رحمت الہی سے محروم ہونا ہے۔ جن فرد یا گروہ پر خدا کی لعنت ہو وہ بے حسی کا شکار ہو جائے گا۔ خدا کی نظر میں اس کا ہر عمل بے قیمت ہو جائے گا، خواہ بظاہر وہ کوئی درست عمل کیوں نہ دکھائی دیتا ہو۔ یہودی نفسیات فخر کی نفسیات ہے۔ ان کی ہر بات میں فخر کا احساس جھلکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues