Global business is our future.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۶
مضمون نگار ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کو واشنگٹن (وائٹ ہاوس) کی اس تقریب میں موجود تھے جہاں فلسطینی لیڈر یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیر اعظم یتزک رابن کے درمیان ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا معاہدہ ہوا۔ مضمون نگار نے اس معاہدہ امن کو بے نظیر مفاہمت (unprecedented accommodation) سے تعبیر کیا ہے۔
مضمون نگار نے لکھا ہے کہ اس قسم کا نسبتاً کم اہم معاہدہ ۱۹۶۹ میں سابق مصری صدر انور السادات اور سابق اسرائیلی وزیر اعظم مناہم بیجن کے درمیان ہوا تھا۔ اس وقت یاسر عرفات نے انور السادات کو غدار (traitor) بتایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس قابل ہیں کہ ان کو قتل کر دیا جائے۔ مگر آج خود یاسر عرفات، سادات کی اسی سنت پر زیادہ بڑے پیمانے پر عمل کر رہے ہیں۔ یاسر عرفات اب اگر امن کی پالیسی کو ضروری سمجھتے ہیں تو ان کے لیے اپنی اس رائے پر عمل کرنا کوئی غلط بات نہیں۔ مگر ایسی صورت میں انھیں یہ اعلان بھی کرنا چاہیے کہ اس سے پہلے انھوں نے فلسطین کے بارہ میں جو پالیسی اختیار کی وہ درست نہ تھی۔ اور انور السادات کو برا بتانا بھی ایک سنگین غلطی تھی۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنا ان کے لیے خود سب سے بڑی غلطی ہوگی۔ ابن عساکر (۶۰۰ ۔ ۵۲۷ھ) مشہور محدث اور مورخ ہیں۔ انھوں نے مسجد اقصیٰ کے موضوع پر ایک کتاب لھی ہے۔ اس کا نام ہے : الجامع المستقصى فی فضائل المسجد الاقصیٰ۔ یہ غالباً اس موضوع پر سب سے زیادہ جامع کتاب ہے۔
قبطی چرچ کے پوپ نے ۴ جولائی ۱۹۹۵ کو ایک بیان میں کہا کہ یہودی اب شعب مختار (Chosen people) کی حیثیت نہیں رکھتے۔ مسیحیت کے ظہور کے بعد اب ان کی یہ حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ میں نے ایک عیسائی اسکالر سے کہا کہ یہ بات جزئی طور پر صحیح ہے۔ کیونکہ پیغمبر اسلام کے ظہور کے بعد خود مسیحیت کی حیثیت بھی ختم ہو چکی ۔ اور اب خدا کا مختار گروہ وہ ہے جو دین محمدی کو اختیار کرے۔ اس نے توجہ کے ساتھ میری بات سنی اور پھر کہا: مگر کیا محمد عربی ایک عالمی پیغمبر تھے ۔
...یرک ہو گا ہو اور اپنی مذہب ایک حامی پیغمبر ہے۔
ایک صاحب سے جہاد (بمعنی قتال) کے موضوع پرگفت گو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ اسلام میں جہاد صرف دفاع کے لیے ہوتا ہے۔ مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues