Al-Risala · October 1997 · page 15

Global business is our future.

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۵

اور تل ابیب اور یروشلم میں قائم ہے۔ میں اس نام کا سبب معلوم نہ کر سکا۔ تاہم اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلسطین (اسرائیل) پر مسلم تہذیب کا اثر کتنا زیادہ ہے۔ اسرائیل اور اردن کے درمیان ایک انوکھی جھیل ہے جس کو البحر المیت (Dead Sea) کہتے ہیں۔ وہ سطح سمندر سے ۴۰۱ میٹر نشیب میں واقع ہے۔ اس کا رقبہ ۴۰۵ مربع میل ہے۔ اس کے پانی میں نمک اور معدنیات کی آمیزش عام سمندروں سے چار گنا زیادہ ہے۔ حتیٰ کہ آدمی اس کے اندر داخل ہو تو وہ غرق نہیں ہوتا۔ رومی حکمراں وسپاسین (Vespasian) ۶۸-۶۹ء میں فاتحانہ طور پر فلسطین میں داخل ہوا۔ اس کو بتایا گیا کہ بحر مردار کا پانی اتنا گاڑھا ہے کہ اس میں داخل ہونے والا آدمی اوپر ہی اوپر تیرتا رہتا ہے، اس نے تجربہ کے لیے کچھ یہودی قیدیوں کو اس کے اندر پھنکوا دیا :

جغرافیہ کے علماء بحر مردار جیسی انوکھی جھیل (سمندر) کو سطح زمین کی قدیم تبدیلیوں کے عہد (holocene epoch) کی ایک یادگار سمجھتے ہیں۔ مگر وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ تبدیلیوں کے اس دور میں، جو کہ پچھلے دس ہزار سال کی ارضی تاریخ سے تعلق رکھتا ہے، اس میں صرف بحر مردار ہی استثنائی طور پر ایسی وسیع جھیل کی صورت میں کیوں تبدیل ہو گیا۔ جب کہ اس کا بھی ثبوت ملا ہے کہ ایک عرصہ پہلے تک وہ عام جھیل کی مانند تھا۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ میں یہاں قوم لوط آباد تھی۔ اس کے اندر برائیاں پیدا ہوئیں تو حضرت ابراہیمؑ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام ان کی اصلاح کے لیے بھیجے گئے۔ مگر قوم سرکش ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ دو ہزار سال قبل مسیح میں ایک شدید زلزلہ آیا۔ زمین کے اندرونی آتش گیر اجزاء بھڑک کر جل اٹھے۔ پورا علاقہ تباہ ہو کر رہ گیا۔

ہندوستان ٹائمس (۱۸ ستمبر) کے درمیانی صفحہ پر مسٹر این سی من (مقیم واشنگٹن) کا مضمون فلسطین کے مسئلہ پر تھا۔ اس کا عنوان تھا اور امن کا وقت :

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page