Offence is the best defence.
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸
آخری جلسہ سے فارغ ہو کر جب میں رات کے وقت اپنی رہائش گاہ کی طرف روانہ ہوا تھا تو میری آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری تھے اور زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے : ہم متحد ہو کر مشورہ بھی نہیں دے سکتے ، اور وہ متحد ہو کر مقابلہ کریں (الجمعیۃ ویکلی ۱۲ ستمبر ۱۹۶۹) حال میں فلسطین کی سیاسی جدوجہد کے بارے میں ایک کتاب ایک برطانی مصنف نے شائع کی ہے ۔ اس انگریزی کتاب کے مصنف کا نام گراہم اشر ہے :
Palestine in Crises: The Struggle for Peace and Political Independence, by Graham Usher یہ کتاب ان فلسطینیوں یا ان عربوں میں پسند کی جارہی ہے جو یاسر عرفات کی کوششوں سے زیادہ اتفاق نہیں کرتے۔ اس کتاب میں برطانوی مصنف نے لکھا ہے کہ یاسر عرفات کی پالیسیوں کے نتیجہ میں فلسطین کو جو امن حاصل ہوا ہے، وہ وقتی اور مصنوعی ہے۔ اور وہ امریکہ اور اسرائیل کی شرطوں پر قائم ہوا ہے نہ کہ عربوں کی شرطوں پر۔
میں نے ایک صاحب سے کہا کہ گراہم اشر کی یہ بات کوئی زیادہ اہم بات نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے جو معاہدہ کیا تھا وہ بھی وقتی تھا اور وہ تمام تر فریق مخالف کی شرطوں پر کیا گیا تھا۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کے حق میں فتح مبین بن گیا۔ اصل یہ ہے کہ یہ دنیا مقابلہ کی جگہ ہے یہاں اصل اہمیت صلح کی دفعات کی نہیں ہے۔ بلکہ اصل اہمیت یہ ہے کہ صلح کے بعد مستقبل کی تعمیر کے لیے آپ کتنی اہلیت کا ثبوت دیتے ہیں۔ کسی بھی صلح کو مستقبل کے نتائج کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے نہ کہ حال کی لفظی دفعات کے اعتبار سے۔ میں نے کہا کہ الفاظ ہمیشہ تاریخ کے تابع ہوتے ہیں، تاریخ کبھی الفاظ کے تابع نہیں ہوتی۔
مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے لوگ ساری دنیا میں یہ غلطی کر رہے ہیں کہ وہ اپنے مسائل کو قول سدید (الاحزاب ۷۰) کی زبان میں پیش نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ ان کو جذباتی بلکہ غیر واقعی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی بھی ملی یا قومی مسئلہ میں مسلمانوں کے درمیان حقیقت پسند رائے نہیں بنتی۔ ساری دنیا کے مسلمان ذہنی اعتبار سے غیر واقعی دنیا میں جیتے ہیں۔ اور جو لوگ غیر واقعی فضا میں جیتے ہوں وہ کبھی اپنے معاملات کی صحیح منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues