Al-Risala · October 1997 · page 23

لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۳

اس سے توالد و تناسل کا کوئی سلسلہ جاری ہوا (لم یعش مسخ قط فوق ثلاثة ایام، ولم یاکل ولم یشرب ولم ینسل) مختصر تفسیر ابن کثیر ۴/۱، مسجدِ اقصیٰ کے گرد و پیش میں جو آبادی ہے وہاں زبان کو مستثنیٰ کر کے بڑی حد تک پرانی دہلی کا منظر دکھائی دیتا ہے۔ بھیڑ، گندگی، بدنظمی، شور و غل، بچوں کی اچھل کود، دیواروں پر حکومت کے خلاف احتجاجی نعرے وغیرہ ــــــــ آزادیٔ فلسطین کے لیے وہاں جو تنظیمیں زیادہ سرگرم ہیں ان میں ایک حركة المقاومة الاسلامية ہے جس کا مختصر نام (short form) حماس ہے۔ یہ ایک جذباتی اور انتہا پسند تنظیم ہے۔ اسی کے زیرِ قیادت ۷ دسمبر، ۱۹۸۷ء کو ایک مخصوص حادثہ (المقطورة) کے بعد وہ پرشور تحریک وجود میں آئی جو اخبارات میں الانتفاضہ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے تحت فلسطینی لڑکوں اور نوجوانوں کو اکسایا گیا کہ وہ جہاں کہیں بھی کسی یہودی کو دیکھیں پتھر مار کر اس کا چہرہ زخمی کر دیں۔ جن لڑکوں نے اس تحریک میں حصہ لیا انھیں فخر طور پر اولاد الحجارة کہا جاتا ہے۔

جدید ترین ہتھیاروں سے مسلح ایک طاقت ور فوج کے مقابلہ میں ”پتھر“ اٹھانا بلاشبہ ایک مجنونانہ حرکت ہے۔ مگر اپنے اس طریق کار پر حماس کو اتنا یقین ہے کہ اس کے بقول عربوں کے تمام ٹینک اور میزائل بھی وہ کارنامہ انجام نہ دے سکے جو ان کے پتھر نے کر دکھایا، وہ پتھر جو ”غاصب“ کے چہرہ کو لہولہان کر دیتا ہے (کل الدبابات وكل صواريخ العرب، ماساوت حجراً، حجراً يُرمى وجه المحتل)

اس علاقہ میں جس طرف سے بھی گزر ہوا اکثر دیواریں حماس کی طرف سے لکھے گئے جذباتی نعروں (شعارات) سے رنگین نظر آئیں۔ مثلاً: نعم للحجر، لا للمؤتمر، پتھر کے لیے ہاں، کانفرنس کے لیے نہیں (یعنی ہمارا مسئلہ صرف پتھر کے ذریعہ لڑ کر حل ہو سکتا ہے نہ کہ امن کانفرنسوں میں بات چیت کے ذریعہ)

بالقوة وبالقوة فقط تُحرّر ارض فلسطین، طاقت اور صرف طاقت کے ذریعہ ہی سرزمین فلسطین کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔

جند حماس للاقصى حراس، حماس کی فوج اقصیٰ کی محافظ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page