لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -
الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۲
ضربہ اللہ « كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَاراً » (تفسیر المنار ۳۴۳/۱) جرمن نو مسلم محمد اسد نے مجاہد کے اسی قول کو سامنے رکھتے ہوئے بقرۃ اور اعراف کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں میں كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ کا ترجمہ (Be as apes despicable) کیا ہے۔ یعنی ہو جاؤ بندروں کی مانند ذلیل و خوار۔ اس کے علاوہ حاشیہ میں مجاہد کے قول کو انگریزی میں اس طرح نقل کیا ہے :
تاہم اس لفظی بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے اگر مسخ کو حقیقی جسمانی تبدیلی کے معنی میں لیا جائے تب بھی اس ضمن میں دو باتیں تمام مفسرین کے یہاں متفق علیہ ہیں۔ ایک یہ کہ صحیح حدیث کے مطابق نہ یہود بندر اور خنزیر کی نسل سے ہیں نہ یہ جانور یہود کی نسل سے ، بلکہ دونوں اللہ تعالیٰ کی مستقل مخلوق ہیں۔
علامہ ابن کثیر نے ابو داؤد الطیالسی کے واسطہ سے عبداللہ بن مسعود کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا بندر اور خنزیر مسخ شدہ یہود کی نسل ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو لعنت زدہ ٹھہرا کر اسے مسخ کیا ہو اور پھر اس سے کوئی نسل چلی ہو۔ بلکہ یہ تو ایک مستقل مخلوق ہے جو واقعہ مسخ کے پہلے سے موجود تھی۔ چنانچہ جب یہود پر خدا کا غضب نازل ہوا اور ان کو مسخ کر دیا تو ان کو انہیں کے جیسا بنا دیا (سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن القردة والخنازير أهي من نسل اليهود ؟ فقال : " لا ، ان الله لم يلعن قوماً قط فيمسخهم فكان لهم نسل ، ولكن هذا خلق كان - فلما غضب الله على اليهود فمسخهم جعلهم مثلهم ) مختصر تفسیر ابن کثیر ۱/ ۵۳۱ - ۵۳۰ دوسرے یہ کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ و تابعین سے صراحتہً منقول ہے کہ کوئی مسخ شدہ قوم تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہی ، نہ اس نے کچھ کھایا ، نہ کچھ پیا ، اور نہ
‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues