Al-Risala · October 1997 · page 26

لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۶

صراع نامع اليهود صراع وجودِ لا حدود ، یہود کے ساتھ ہماری کش مکش ہمارے (قومی) وجود کی کش مکش ہے نہ کہ (جغرافیائی) حدود کی کش مکش ۔

إن الجهاد في سبيل الله - هو الحل الراجح والأسلوب الفعال فى التفاهم مع أحفاد القردة والخنازیر۔۔۔ وما الحلول والمبادرات السلمية الاغثاء كغثاء السَّيْل، بندروں اور خنزیروں کی اولاد کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے جہاد فی سبیل اللہ ہی قابلِ ترجیح حل اور موثر تریں طریقہ ہے۔ ۔ اس کے علاوہ پرامن نوعیت کے سارے حل اور پیش قدمیاں سیلاب کے جھاگ سے زیادہ حیثیت نہیں رکتیں ۔

حماس کے یہ نعرے ایک طرف اس کے مزاج اور طریقِ کار اور دوسری طرف عصرِ حاضر کے تقاضوں سے اس کی الم ناک بے خبری کا پتہ دیتے ہیں ۔

یہاں ایک بات قابلِ غور ہے کہ عرب اخبارات میں عام طور پر یہودیوں کو از راہِ تحقیر احفاد القردة والخنازیر یعنی بندروں اور خنزیروں کی اولاد کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ اوپر حماس کے ایک نعرہ میں بھی یہ الفاظ آئے ہیں۔ مگر ایسا کہنا حد درجہ سرکشی اور جہالت کی بات ہے۔ کیوں کہ وکار رحمتہ اللہ علیہ وسلم کی احادیث ، صحابہ و تابعین اور تبع تابعین کے مسلک کے بالکل برعکس ہے۔

ایک حدیث میں مومن کو نرم پودے (کمثل الخامۃ الزرع) سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ جب ہوا چلتی ہے تو وہ اس سے ہم آہنگ ہو کر دائیں یا بائیں طرف جھک جاتا ہے۔ اور ہوا کا زور گھٹنے کے بعد بدستور اپنی جگہ سیدھا کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس منافق سخت تنے کی مانند ہوتا ہے جو ہوا کے ایک ہی جھٹکے میں اپنی جگہ سے اکھڑ کر گر جاتا ہے۔ دوسری طرف قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر تمہارے مخالفین صلح پر آمادہ ہوں تو تم بھی اللہ پر توکل کرتے ہوئے اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ۔ اگر مخالفین مصلحت کے بہانے تمہیں دھوکا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تب بھی اللہ تمہارے لیے کافی ہو جائے گا (الانفال ۶۲-۶۱) مذکورہ حدیث اور آیت کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے قائدین نے، خصوصی مسئلہ فلسطین کی حمایت اور تائید حقہ کے سلسلے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ خصوصاً مسئلہ فلسطین کے معاملے میں، نہ تو حقیقی دانش مندی کا ثبوت دیا نہ حقیقی توکل کا۔ دانشمندی

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page