Al-Risala · October 1997 · page 27

لا بد أن يعود الأقصى للسيادة العربية -

الرسالہ، اکتوبر ۱۹۹۷، صفحہ ۲۷

کا تقاضا یہ تھا کہ جب ساری دنیا میں امن کا چرچا ہو رہا ہو اور قومی و بین الاقوامی نزاعات کو پُر امن بات چیت کے ذریعہ حل کرنا تہذیب و شائستگی کا مسلمہ معیار بن چکا ہو ، تو وہ جنگ و قتال جیسی خلافِ زمانہ باتوں سے مکمل احتراز کرتے ۔ وہ ”معرکہ حطین“ کی تجدید کے بجائے ”معاہدہ حدیبیہ“ کی تجدید کو اپنی پالیسی بناتے ۔ دوسری طرف توکل علی اللہ کا تقاضا یہ تھا کہ عہد شکنی کے امکانی خطرہ کے باوجود ”اغیار“ کی طرف سے صلح کی ہر پیش کش کو فوراً قبول کر لیتے ۔ مگر چونکہ بروقت ان دونوں میں سے کوئی ایک بات بھی متحقق نہ ہو سکی ، اس لیے جان و مال کی بے پناہ قربانیوں کے علی الرغم آج تک ہمارے تمام مسائل، بشمول مسئلہ فلسطین، غیر حل شدہ پڑے ہوئے ہیں، بلکہ وہ مزید پیچیدہ ہو چکے ہیں۔

فلسطین کے ایک اخوانی نوجوان نے کہا کہ اسلام صرف عبادت نہیں ہے، وہ دین بھی ہے اور ریاست بھی۔ اس لیے اس الدین کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس حکومت ہو جو اسلامی قوانین کو نافذ کرے اور دشمنانِ خدا کے معاملہ میں مسلمانوں کی حمایت کرے اور دشمنوں کی سازشوں سے انھیں بچائے یہ ایک فریضہ ہے مگر اکثر مسلمان اس فرض سے غافل ہیں۔ الاخوان المسلمون مسلمانوں کو اسی کی طرف بلاتی ہے کہ وہ اس فریضہ کو ادا کریں اور اسلامی قوانین کو پوری طرح نافذ کریں :

الاسلام ليس عبادة فقط ولكنه دين ودولة ـ وهذا الدين لا بد له من دولة تطبق الاسلام وتحمى المسلمين من اعداء الله وترد كيد الاعداء عنهم ـ فهذا واجب لكن كثيرا من المسلمين غافلون عن هذا الواجب ـ والاخوان يدعونهم لتحقيق هذا الواجب والعمل على تطبيق الشريعة والحكم بالاسلام ـ میں نے کہا کہ یہ پورا نظریہ ایک غلط تفسیر دین پر قائم ہے۔ الاسلام دین و دولة اسلام کی ایک مبتد عانہ تفسیر ہے۔ زیادہ صحیح تعبیر یہ ہے کہ الاسلام دین و دعوة ۔ یعنی ذاتی زندگی میں دین دار بننے کے بعد مسلمان پر جو دوسری ذمہ داری ہے وہ دعوت ہے نہ کہ حکومت۔ عبادت اور دعوت ذمہ داری ہے، اور حکومت اللہ تعالیٰ کا ایک عطیہ۔ حکومت و اقتدار اسلامی عمل کا هدف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کبھی حاصل ہوتا ہے اور کبھی حاصل نہیں ہوتا۔ میں نے کہا کہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 1997 All issues

Printed page