Al-Risala · November 1997 · page 12

صفت مومن

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۲

صفت مومن

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کسی ایک بل سے دوبارہ ڈسا نہیں جاتا : لا يُلدَغُ المومِنُ مِن جُحرٍ واحِدٍ مَرَّتین (فتح الباری بشرح صحیح البخاری ، جلد ۵۳۴/۱۰ یہ حدیث تمثیل کی زبان میں یہ بتاتی ہے کہ مومن کسی غلط اقدام کا دوبارہ تجربہ نہیں کرتا کسی معاملہ میں ایک بار کا غلط اقدام اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے کہ وہ دوسری بار اس کا اعادہ نہ کرے۔ مومن کے اندر یہ صفت کیسے آتی ہے ۔ اس کا راز تو بہ ہے۔ ایمان آدمی کے اندر جو ذہن پیدا کرتا ہے۔ اس ذہن کا ایک اہم پہلو تو بہ ہے۔ تو بہ کے لفظی معنی پلٹنے کے ہیں ۔ یعنی آدمی اگر بھول سے ایک غلطی کر جائے تو فوراً ہی اس کے اندر اپنی غلط کاری کا احساس جاگ اٹھے۔ یہ احساس اتنا شدید ہو کہ وہ غلطی کی حالت سے لوٹ کر اصلاح کی حالت کی طرف آ جائے۔

ایمان یہ ہے کہ آدمی کے اوپر یہ حقیقت منکشف ہو جائے کہ وہ اس دنیا میں آزاد نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک قادر مطلق خدا کی نگرانی میں ہے۔ اور لازمی طور پر ایک ایسا دن آنے والا ہے جب کہ خدا اس کے تمام اعمال کا حساب لے۔ جب کسی آدمی پر یہ سنگین حقیقت منکشف ہوتی ہے تو وہ اس کو اس معاملہ میں انتہائی حد تک حساس بنا دیتی ہے کہ وہ کسی غلطی پر قائم نہ رہے۔ اگر کسی اتفاقی سبب سے اس سے کوئی غلطی سرزد ہوتی ہے تو فی الفور اس کا اندرونی احساس جاگ اٹھتا ہے اور وہ غلطی سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع ہو جاتا ہے۔

غلطی پر اصرار نہ کرنے کا یہ جذبہ جو مومن کے اندر آخرت کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے وہی دنیا کے معاملات میں بھی لازمی طور پر ظاہر ہونے لگتا ہے۔ یہ صفت مومن کی شخصیت کا ایک لازمی جز بن جاتی ہے۔ اسی طرح یہ صفت اس بات کی ضمانت بن جاتی ہے کہ وہ غلطی پر قائم نہ رہ سکے۔ ایک غلط اقدام کے بعد وہ دوسری بار اس کا تجربہ نہ کرے۔

صحیح عمل سنجیدگی کا نتیجہ ہوتا ہے، اور غلط عمل غیر سنجیدگی کا۔ سنجیدہ انسان کرنے سے پہلے سوچتا ہے۔ وہ ہمیشہ مخاطروس لو اختیار کرتا ہے ۔ اس لیے وہ غلط اقدام سے بچ جاتا ہے۔ اس کے معاملہ میں غیر سنجیدہ انسان بے سمجھی اور بے احتیاطی کے ساتھ عمل کرتا ہے ، اس لیے اس کا اقدام بھی ہوتا ہے اور بے نتیجہ بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page