Al-Risala · November 1997 · page 15

سنجیدہ انسان

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۵

سنجیدہ انسان

امریکی میگزین پلین ٹروتھ کے سابق ایڈیٹر کا انتقال ۸۲ سال کی عمر میں ہوا۔ انھوں نے اپنے آخری زمانے میں میگزین کے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ اپنی لمبی عمر کے دوران میرا سابقہ اُن گنت لوگوں سے پیش آیا۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا میں سب سے انوکھی چیز کیا ہے تو میں نہ ریڈیم کا نام لوں گا اور نہ پلیٹینیم کا۔ میں کہوں گا کہ دنیا میں سب سے زیادہ نادر اور کامیاب چیز سنجیدگی (sincerity) ہے۔ مجھے اپنی زندگی میں بہت ہی کم ایسے انسان ملے جو فی الواقع سنجیدہ (sincere) تھے۔

سنجیدگی کیا ہے۔ سنجیدگی دراصل اسی صفت کا اخلاقی نام ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں اخلاص کہا جاتا ہے۔ سنجیدگی اور اخلاص میں درجے کا فرق تو ضرور ہے لیکن ان میں نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سنجیدگی ہی کی ترقی یافتہ صورت کا نام اخلاص ہے۔ سنجیدہ انسان ذمہ دار اور محتاط انسان ہوتا ہے۔ اس دنیا میں حقیقت واقعہ کا اعتراف سب سے بڑا فعل ہے۔ اور حقیقت واقعہ سے مطابقت سب سے بڑا عمل، اور یہ اعلیٰ انسانی صفت ایک سنجیدہ انسان کے اندر اپنے کامل درجہ میں پائی جاتی ہے۔

سنجیدہ انسان ہمیشہ سچ بولتا ہے، کیوں کہ وہ جھوٹ بولنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ سنجیدہ انسان بولنے سے پہلے سوچتا ہے کیوں کہ بے فائدہ کلام اس کے مزاج کے مطابق نہیں۔ سنجیدہ انسان اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے کیوں کہ وعدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی اس کو اپنے قتل کے ہم معنی نظر آتی ہے۔ سنجیدہ انسان حق کا اعتراف کرتا ہے، کیوں کہ حق کی وضاحت کے بعد اس کا اعتراف نہ کرنا اس کے بس میں نہیں ہوتا۔ سنجیدہ انسان دلیل کے آگے جھک جاتا ہے۔ کیونکہ دلیل کے آگے نہ جھکنا اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ اس نے خود اپنے وجود کی نفی کر دی ہو۔ سنجیدہ انسان جس نظر سے اپنے آپ کو دیکھتا ہے اسی نظر سے وہ دوسروں کو بھی دیکھتا ہے۔ کیوں کہ دہرامعیار اختیار کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے کہ اس نے اپنی حیثیتِ انسانی کو ذبح کر دیا ہو۔ سنجیدہ انسان فطرت کا ایک حسین پھول ہے۔ وہ ایک ایسی با معنی مخلوق ہے جس سے زیادہ بامعنی مخلوق اس کائنات میں کوئی دوسری نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page