Al-Risala · November 1997 · page 14

قناعت کیجیے

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۴

قناعت کیجیے

بنگلہ دیش کے سابق فوجی صدر جنرل محمد ارشاد ایک فوجی بغاوت کے ذریعہ اقتدار میں آئے۔ اس کے بعد دوسری فوجی بغاوت ہوئی۔ جس کے تحت قائم شدہ حکومت نے ان پر بدعنوانی کے کئی مقدمات چلائے۔ پہلے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں تیرہ برس قید کی سزا ہوئی تھی، مالی بدعنوانی کے تحت انھیں مزید سات سال کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ لاہور کے روزنامہ نوائے وقت وقت(۸جون ۱۹۹۳) میں اس سلسلے میں جو خبر چھپی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے: جنرل محمد ارشاد اور ان کی اہلیہ روشن کو ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے زمینوں کے لین دین کے سلسلہ میں بدعنوانیوں کا مرتکب قرار دے کر ،، ، برس کی قید کی سزاسنائی۔ جنرل ارشاد نے کئی افراد کو ڈھاکہ کے قیمتی علاقہ میں زمینیں دلوائیں اور پھر ان کا کچھ حصہ ان افراد سے سستے داموں میں خرید کر اس زمین پر " جنتا ٹاور " کے نام سے ایک عمارت تعمیر کروائی اور اس پر خرچ ہونے والی رقم کا بڑا حصہ انھوں نے خود اپنی جانب سے ادا کیا۔ چوں کہ یہ رقم ان کی آمدنی سے زیادہ تھی، عدالت نے مذکورہ تمام اراضی اور جنرل ارشاد کی عمارت کو بحق سرکار ضبط کا حکم دے دیا ہے اب وہ اور ان کی بیوی دونوں جیل میں ہیں۔

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس چیز کو کتنی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جس کو دینی اصطلاح میں قناعت کہا جاتا ہے۔ جنرل ارشاد کا یہ افسوس ناک انجام اس لیے ہوا کہ وہ قناعت نہ کر سکے۔ انھوں نے جنرل کے عہدہ پر قناعت نہ کر کے صدر کے عہدے پر پہنچنا چاہا۔ انھوں نے چھوٹی زمین پر قناعت نہ کر کے بڑی زمین حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ایک منزلہ مکان پر قناعت نہ کر کے تیرہ منزلہ مکان کا مالک بننا چاہا۔ انھیں جو کچھ فطری طور پر ملا تھا، اگر وہ اسی پر قناعت کرتے تو وہ اطمینان کے ساتھ ایک مسرت زندگی گزار سکتے تھے، مگر وہ ملے ہوئے سے قناعت نہ کر کے ہلے ہوئے درد وڑے ہے پر مرکوز رہتی ہے، اور سخت پردشت کرتا ہے، سخت پرورزش اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مزید کی حرص میں وہ ملے ہوئے سے بھی محروم ہو کر رہ گئے۔ زندگی کے مسائل کا حل قناعت ہے نہ کہ حرص۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page