اغیار سے تعاون
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۸
اغیار سے تعاون
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو یہ ایک بہت نازک سفر تھا۔ یہ سفر مکہ کے مشرکین کے ظلم و تشدد کی وجہ سے کرنا پڑا تھا۔ اس کے باوجود اس سفر کے لیے آپ نے جس گائیڈ کا انتخاب کیا وہ مکہ کا ایک غیر مسلم عبد اللہ بن اریقط تھا۔ اسی غیر مسلم گائیڈ نے آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے آپ کو مکہ سے مدینہ پہنچایا۔
اس سنت سے معلوم ہوا کہ دوسروں سے تعاون لینے میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق کرنا درست نہیں۔ اس طرح کے تعاون کے معاملے میں اہلیت دیکھی جائے گی نہ کہ رشتہ اور مذہب۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی پالیسی ہمیشہ اختیار کی۔ مثال کے طور پر بدر کی لڑائی کے بعد ستر کی تعداد میں غیر مسلم گرفتار کر کے مدینہ لائے گئے۔ یہ لوگ اس زمانہ کے لحاظ سے پڑھے لکھے تھے۔ چنانچہ آپ نے اعلان کیا کہ ان میں سے جو شخص مدینہ کے دس بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھادے اس کو ہم رہا کر دیں گے۔ اس طرح گویا اسلام کی تاریخ میں خود رسول اللہ کے حکم سے جو پہلا اسکول کھولا گیا اس کے تمام کے تمام ٹیچر غیر مسلم تھے۔
زندگی کے معاملات میں اس اصول کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ کسی کام میں ساتھی اور کارکن کا انتخاب کرتے ہوئے اگر یہ دیکھا جائے کہ وہ اپنے مذہب کا ہے یا غیر مذہب کا، یا اپنی برادری کا ہے یا غیر برادری کا، تو اس سے کام کا معیار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح کبھی کوئی کام اعلیٰ معیار پر انجام نہیں دیا جاسکتا۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ کام کو کام کے طور پر دیکھا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ جو کام کرنا ہے اس کام کے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ کار آمد کون لوگ ہو سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ایسے معاملات میں میرٹ کی بنیاد پر افراد کا انتخاب کیا جائے نہ کہ کسی اور بنیاد پر۔ میرٹ کی بنیاد انتخاب کرنے سے اصل کام کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔ اور جب کسی اور چیز کو انتخاب کی بنیاد بنایا جائے تو اسی چیز کو فروغ حاصل ہو گا جس کو انتخاب کی بنیاد بنایا گیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues