مقامِ نفوذ
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۱۹
مقامِ نفوذ
مالی کو ایک پودا لگانا تھا۔ اس نے باغ میں ایک گڑھا کھودا۔ اس کی زمین نرم کرنے کے لیے اس نے گڑھے میں ایک بالٹی پانی ڈالا۔ کچھ دیر کے بعد پانی سوکھ چکا تھا۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ وہاں زمین کے نیچے ایک سوراخ تھا۔ اس سوراخ سے سارا پانی نیچے چلا گیا۔
یہ فطرت کا اصول ہے جس کو پانی نے عملی طور پر برت کر دکھایا۔ پانی نے ایسا نہیں کیا کہ وہ گڑھے کی سخت جگہ پرٹکراکر وہاں اپنا راستہ بنانے کی کوشش کرے ۔ بلکہ اس نے گڑھے کے اندر اپنے لیے ایک مقام نفوذ (penetration point) تلاش کیا۔ اور وہاں سے راستہ بنا کر اندر داخل ہو گیا۔ فطرت کا یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے ۔ انسانی معاشرہ میں جب بھی آپ کو کوئی کام کرنا ہو خواہ وہ مادی معنوں میں کوئی دنیوی کام ہو یا اخروی معنی میں دعوت و تبلیغ کا کام، آپ کو سب سے پہلے اپنے ماحول کا مطالعہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کے لیے مقامِ نفوذ کیا ہے۔ وہ کون سا نقطہ ہے جہاں پر عمل کر کے آپ بآسانی اپنے لیے ایک گزر گاہ پا سکتے ہیں۔ جہاں سے اپنے عمل کا آغاز کر کے آپ اپنے لیے مستقبل کی وسیع تر راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ انسان جب بھی کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اس کا ایک آخری نشانہ ہوتا ہے مثلاً ایک مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کا آخری نشانہ اوپر کی چھت ہوگا۔ لیکن آپ اپنے مکان کی تعمیر اوپر کی چھت سے نہیں کر سکتے۔ آپ کو لازمی طور پر اپنے مکان کا آغاز اس کی بنیاد سے کرنا ہوگا۔ یہی معاملہ تمام انسانی کاموں کا ہے۔ ہر کام کا ایک نقطہ آغاز ہے، اور دوسرا اس کا نقطہ اختتام۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دونوں چیزوں کے فرق کو سمجھے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ ابتدائی مقام سے آغاز کر کے وہ اپنے مطلوب اختتام تک تو پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے منصوبہ کے اختتامی نقطہ سے آغاز کرنا چاہے تو وہ کہیں بھی نہیں پہنچے گا، خواہ وہ عمل کے نام پر صدیوں تک اپنی کوششیں جاری رکھے ۔ یہی اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کردہ قانون ہے۔
کیا ہوا قانون ہے۔
عمل کے نقطہ اختتام کو جاننا جوش ہے۔ اور عمل کے نقطہ آغاز کو جاننا ہوش۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues