دوسرا سفر
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۹
جسٹس دیبی سنگھ تیو تیا کلکتہ ہائی کورٹ میں چیف جسٹس تھے۔ انھوں نے ایک اصول کی بنیاد پر ۱۹۸۸ میں اس عہدہ سے استعفادے دیا۔ وہ ایک اصول پسند آدمی ہیں اور با اصول موقف (principled stand) کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے ملکی حالات میں اصلاح کے لیے سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انھوں نے جب الیکشن کمیشن میں اپنی پارٹی (جن ستہ پارٹی) کو رجسٹر کرایا تو معلوم ہوا کہ ہندوستان میں تقریبا چار سو پولیٹیکل پارٹیاں رجسٹرڈ پارٹی کی حیثیت سے موجود ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کی ابتدائی تعلیم لاہور میں اردو اسکول میں ہوئی۔ جب وہ تیسری کلاس میں پڑھتے تھے تو ان کے مسلمان استاد نے ایک شعر بتایا تھا جو اب تک انھیں یاد ہے : کاٹ لینا ہر کٹھن منزل کا کچھ مشکل نہیں اک ذرا انسان میں چلنے کی ہمت چاہیے Justice Debi Singh Tewatia A-27, D.L.F. Qutub Enclave, Phase-I Gurgaon, Tel. 0124-8-350797 کرنال کے نام سے بہت سی تاریخیں وابستہ ہیں۔ نادر شاہ (۱۷۳۷ء - ۱۷۸۸) ایک ایرانی سردار تھا۔ اٹھارویں صدی میں وہ اسی ہزار کی فوج کے ساتھ ہندوستان میں داخل ہوا۔ فتوحات کرتے ہوئے فروری ۱۷۳۹ میں وہ کرنال پہنچا۔ یہاں اس نے مغل فوج کو فیصلہ کن شکست دی۔ اس کے بعد وہ دہلی میں داخل ہوا۔ یہاں کچھ مسلمانوں نے اس کے ایک فوجی کو مار دیا۔ اس پر وہ سخت برہم ہوا۔ اس نے دہلی میں قتل عام کا حکم دے دیا۔ دہلی کی سڑکوں اور گلیوں میں تیس ہزار آدمی قتل کر دیے گئے۔
نادر شاہ نے نہایت سفاکی کے ساتھ ہندوستان میں اپنی حکومت قائم کی۔ تاہم آخر میں خود اسی کے حفاظتی فوجیوں نے اس پر حملہ کر کے جون ۱۷۴۷ میں اسے مار ڈالا ۔ نادر شاہ کی موت کے بعد اس کی حکومت بھی منتشر ہوگئی۔
لندن کے البرٹ میوزیم میں نادر شاہ کی ایک تصویر رکھی ہے جوکسی مصورنے ۱۷۴۰ میں بنائی تھی۔ اس تصویر میں اس کے چہرے پر شرعی داڑھی ہے اور ہاتھ میں تسبیح لٹک رہی ہے۔ مگر نادر شاہ نہایت سفاک آدمی تھا۔ اس نے خود اپنے بیٹے کو اندھا کروا دیا۔ کیوں کہ اس کو شبہ ہو گیا تھا کہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues