Al-Risala · November 1997 · page 48

دوسرا سفر

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۴۸

20 اگست 1995ء کی صبح کو جسٹس دیوی سنگھ تیوتیاکے ساتھ روانہ ہوا۔ دہلی کی سڑکوں پر چلتے ۲۰ اگست ۱۹۶۵ء صبح کا وقت ساڑھے چھ بجے دبی کے ساتھ روانہ ہوا۔ دہی کی سرڑوں پر پئے سے مڑی ، الّا قلعہ کے پاس پہونچی ۔ ہماری گاڑی الّا قلعہ کی دیوار کے پاس کر کے جاتی ہے میری جھگڑا مجھ اکا ہوئے ہم لال قلعہ کے پاس پہنچے۔ ہماری گاڑی لال قلعہ کی دیواروں کے متوازی چل رہی تھی۔ مجھے ایک شاعر کا شعر یاد آیا جو اس نے اس تاریخی قلعہ کے بارہ میں لکھا تھا :

اے قلعۂ سرخ اے اثر شاہ جہانی برباد شدہ عظمت ماضی کی نشانی میں نے اپنے دل میں سوچا کہ کچھ لوگ لال قلعہ کو عظمت کی نشانی کے طور پر دیکھتے ہیں مگر میں اس کو عبرت کی نشانی کے طور پر دیکھتا ہوں۔ جمنا کے کنارے بنا ہوا ۵۷ فٹ اونچی دیواروں والا یہ عظیم قلعہ دریا کے سیلاب سے اپنے مکینوں کو بچا سکتا تھا مگر اس میں یہ طاقت نہ تھی کہ وہ حقائق کے سیلاب سے ان کو بچا سکے ۔ حقائق کا سیلاب ہر دوسری چیز سے زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے۔ دہلی سے نکل کر ہم ہریانہ میں داخل ہوئے ۔ ہماری گاڑی سڑک پر دھکے کھاتی ہوئی جارہی تھی جس میں جگہ جگہ گڑھاتھا۔ میں نے باہر دیکھا تو سڑک کے دونوں طرف دور تک سر سبز و شاداب زمینیں پھیلی ہوئی تھیں ، ہریانہ ایک نہایت سرسبز مالامال ریاست ہے مگر اس کی سڑک مفلسی کا منظر پیش کر رہی تھی ۔ یہ سارا کرشمہ اس لفظ کا ہے جو آزادی کے بعد ہر آدمی کے لیے ایک معلوم لفظ بن چکا ہے ۔ یعنی پولیٹیکل کرمیشن ۔ یہ حقیقت ہے کہ ۱۹۴۷کے بعد یہ عظیم ملک ہمارے لیڈروں کو ملا تو انھوں نے اس کو لوٹ کا دسترخوان سمجھ لیا نہ کہ تعمیر و ترقی کا میدان۔ ایک ہندو بھائی نے کرپال سنگھ بیدار کا یہ شعر سنایا :

بیدار سحر کے ہوتے ہی کچھ اور سیاہی پھیل گئی آغاز ہمارا یہ کچھ ہے انجام ہمارا کیا ہوگا سونی پت پہنچے تو ایک مقام پر سڑک بھینسوں سے بھری ہوئی تھی۔ ہماری گاڑی ان چلتی پھرتی کالی چٹانوں کے درمیان سے اس طرح گزر رہی تھی کہ ہر وقت یہ اندیشہ تھا کہ ان میں سے کوئی دھکا یا سینگ مار کر نئی ڈیلکس ماروتی کو نقصان پہنچا دے۔ تاہم گاڑی نہایت آہستہ چلتی ہوئی خیریت کے ساتھ باہر آگئی ۔ جسٹس تیوتیا نے کہا :

رسیدہ بودبلا ئے ولے بخیر گذشت رسیدۂ بود بلائے بے لذت پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ میں نے تو بچپن میں اردو اور فارسی پڑھی ہے۔ ایک عرصہ تک اردو ہی پڑھتا تھا۔ پھر جب وہ بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلینڈ گئے تو اردو چھوٹ گئی اور ان کی عام زبان انگریزی بن گئی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page