ہم یہی دعائیں مانگیں گے لمبی عمر آپ کی کرتار کرے
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵۱
گانے اور باجے کا ایک ہنگامہ جاری تھا۔
میں زیادہ تر کانفرنسوں میں جاتا رہا ہوں۔ وہاں سب کے سب پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں۔ کانفرنس اور سیمنار کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ میں ذاتی طور پر کانفرنس کا آدمی ہوں۔ میں عوامی جلسوں کا آدمی نہیں۔ تاہم میں نے سوچا کہ کانفرنسوں میں جو لوگ آتے ہیں وہ ملک کی آبادی کا کتنا فی صد حصہ ہیں۔ میرا خیال ہے کہ دس فی صد سے زیادہ نہیں۔ ملک کے ۹۰ فی صد لوگ یا تو ناخواندہ ہیں یا نیم خواندہ۔
مگر عجیب بات ہے کہ ہندوستان میں جو فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں وہ ۹۹ فی صد شہروں میں ہوتے ہیں۔ راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے تحت دو سینیر رپورٹروں نے چھ ماہ کی تحقیق کے دوران شہری علاقہ اور دیہی علاقہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کے اعداد و شمار جمع کیے۔ اس کی روشنی میں انھوں نے دونوں علاقوں کے فرق کو بتانے کے لیے ایک چارٹ بنایا ہے۔ یہ چارٹ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے علاقوں کے درمیان فساد کے اعتبار سے جو تناسب ہے وہ اس برگ اور اس کی ٹپ جیسا ہے۔
یہاں کے جلسہ میں رام گوپال ایڈوکیٹ (پانی پت) سے ملاقات ہوئی ۔ وہ اچھی اردو جانتے تھے۔ انھوں نے اپنے قلم سے میری ڈائری میں لکھا : میں ۱۹۱۴ میں پیدا ہوا۔ ہمارے گاؤں ہنسوارہ (پانی پت) میں سب مل جل کر رہتے تھے۔ مذہب وملت کی بنا پر کوئی مت بھیدنہیں تھا۔ ۱۹۳۹ سے میں شہر پانی پت میں رہنے لگا۔ یہاں شہر میں بھی کسی قسم کامت بھیدنہیں تھا۔ سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ پانی پت کے چودھری ممتاز حسین (ریٹائرڈ تحصیل دار) کا احسان نہیں بھول سکتا۔ میں نے ایف اے تک فارسی اور بی اے تک اردو میں تعلیم حاصل کی۔ باہر کی طاقت بٹوارہ کرنے میں کامیاب ہو گئی (۲۶ اگست ۱۹۹۵)
جلسہ میں جو کارروائیاں ہوئیں ان میں سے ایک یہ تھا کہ گاؤں کی بچیوں نے مل کر گانا گایا اور اس طرح مہمانوں کا سواگت کیا۔ ایک شعر یہ تھا :
ہم یہی دعائیں مانگیں گے لمبی عمر آپ کی کرتار کرے
بہت سے لوگ نوٹوں کا ہار بنا کر لائے اور مہمانوں کو پہنا کر ان کا خیر مقدم کیا۔ یہ تمام نوٹ جو تقریباً
‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues