Al-Risala · November 1997 · page 52

ہم یہی دعائیں مانگیں گے لمبی عمر آپ کی کرتار کرے

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۷، صفحہ ۵۲

پچاس ہزار روپے کے تھے، مقامی لائبریری میں دے دیے گئے۔ شری مول چند جین کے جنم دن کو” لائبریری آندولن“ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ یہ تصور مجھے پسند آیا۔ چار سال پہلے اس گاؤں میں ایک لائبریری بنائی گئی تھی۔ اب وہ ترقی کرکے کافی بڑی ہوگئی ہے۔ اور علاقہ میں جگہ جگہ لائبر یریاں قائم ہوگئی ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں۔ مول چند جین کا کہنا ہے کہ ” ٹشکچھاپستکالوں کے بنا ادھوری ہے “۔

اس جلسہ میں تقریباً پچاس لڑکوں کو انعامات دیے گئے۔ کسی کو جگ کسی کو ٹفن کیریری، وغیرہ۔ یہ انعامات انھیں پڑھنے کا شوق بڑھانے کے لیے دیے گئے۔

شری مول چند جین نے تقریر کی تو پوری تقریر کے دوران تفصیل کے ساتھ اپنی لائبریری تحریک کا پس منظر بتایا۔ انھوں نے کہا کہ لوگوں کو اگر آپ نکمے کاموں سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کو پڑھنے میں لگائے۔ اس کے لیے میں نے طے کیا۔ ایک سبکو ڈائرکٹ پڑھانے کے بجائے مجھے ہر گاؤں میں پر پڑے ہیں ۔ اسی لیے میں نے کہرھا ہے کہ لوئی پڑھے یا نہ پڑھے ، ہر گاؤں میں لائبریری بنانا ہے۔ میں جو لائبریریاں بنا رہا ہوں ان میں دوسرے مضامین کے ساتھ ہر مذہب کی کتابیں بھی ہوتی ہیں۔ قرآن کا ترجمہ اور پیغمبر صاحب کی لائف بھی ہماری لائبریری میں موجود ہے۔ یہاں ہماری لائبریری میں چار ہزار سے زیادہ منتخب کتابوں کا ذخیرہ ہے۔ انھوں نے مطالعہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا : ہماری سمسیا ئیں کیوں پیدا ہوئیں ، ان کا سمادھان کیا ہے ، یہ سب آپ کو کتابوں کے پڑھنے سے ملے گا۔ ہریانہ میں پنچایتیں بنا دی گئی ہیں۔ مگر اکثر پنچایتوں کے سرپنچ ان پڑھ ہیں۔ ایسی حالت میں پنچایت کیسے سچفل ہو سکتی ہے ۔

سکندر پور ماجرا میں ۱۹۸۴ء کے بعد ۸۰ فی صد مکان کچے تھے ، آج یہاں سب کے سب مکان پکے بنے ہوئے ہیں۔ یہ گاؤں والوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ لائبریری کی وسیع عمارت بھی پختہ دو منزلہ بنی ہوئی ہے ۔

جلسہ کے خاتمہ پر لوگوں نے اپنے اپنے عطیات کا اعلان کیا ، کسی نے ۱۰۱ روپیہ دیا ، کسی نے ۵۰۰ روپیہ ، کسی نے چھ ہزار روپیہ - کسی نے گیارہ ہزار روپیہ کا اعلان کیا ، کسی نے ۳۰ ہزار روپیہ ہے۔ چنانچہ مولانا کوثر نیازی صاحب نے بھی اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ایک ایسا مجموعہ خطبہ ، خطوط، مکاتیب اور مقالات کا جمع کیا جانا چاہیئے جس سے ہمارے علمی وادبی پس منظر پر روشنی پڑے۔ اس سلسلے میں انھوں نے خود بھی کچھ مواد فراہم کیا ہے، اور مولانا اسلم جے پوری نے بھی اس طرف توجہ دلائی ہے۔ دیا ۔ ایک صاحب نے اکیاون ہزار روپیہ کا اعلان کیا۔ مجموعی طور پر پانچ لاکھ روپے۔ سے زیادہ کی رقم جمع ہوئی۔ ایک غریب آدمی نے اپنی جیب سے ایک روپیہ نکال کر دیا۔ "انجمن اسلامیہ"

‹ Previous page Next page › Contents of November 1997 All issues

Printed page