اسلامی تہوار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۵
بھی مقر نہیں ہوئے تھے۔ منظم اسلامی معاشرہ، ہجرت کے بعد مدینہ میں بنا۔ اس وقت جس طرح دوسرے اجتماعی نظام بنائے گئے، اسی طرح عیدین کا نظام بھی قائم کیا گیا۔ اس زمانہ میں مدینہ کے لوگوں میں دو قبائلی تہواروں کا رواج تھا۔ اس دن وہ لوگ کھیل کے مقابلے کرتے تھے۔ شعر و شاعری کی محفلیں سجاتے تھے۔ تاریخی فخر والی چیزوں کی نمائش کرتے تھے۔ مجموعی اعتبار سے اس تہوار کو ایک قسم کا قومی میلہ کہا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مکہ سے مدینہ آئے اور آپ نئے وہاں کے تہواروں کو دیکھا تو آپ نے ان کے بجائے عیدین کی صورت میں دو تہوار مقر کئے۔ ایک صحابی حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو اس وقت اہل مدینہ کے دو سالانہ دن تھے۔ ان میں وہ کھیل کود کرتے تھے۔ آپ نے پوچھا کہ یہ تمہارے دو دن کیا ہیں۔ لوگوں نے کہا کہ یہ یہاں کا پرانا رواج ہے۔ ان دنوں میں ہم لوگ کھیل کود کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے ان دو دنوں کے بدلے تم کو زیادہ بہتر دو دن دئے ہیں۔ یہ دو دن یوم الاضحیٰ اور یوم الفطر ہیں (سنن ابی داؤد ۲۹۳/۱)
عیدین کے یہ تہوار گویا تہوار کے قدیم جاہلی طریقوں کا اسلامائزیشن ہیں۔ تہوار کا اصل مقصد اجتماعی خوشی ہے۔ اس کو عیدین میں پوری طرح باقی رکھا گیا۔ البتہ اس میں غیر سنجیدہ قسم کے کھیل کود کو گھٹاکر اس کی جگہ مہذب خوشی اور سنجیدہ تفریح کا اضافہ کر دیا گیا۔ عیدین کے سلسلہ میں مختلف روایتیں جو حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان کی بیشتر تعداد کو مشکاۃ المصابیح میں اکٹھا کر دیا گیا ہے۔ ان کو صلاۃ العیدین میں اور بعض دوسرے ابواب کے تحت دیکھا جا سکتا ہے۔
پہلی بات یہ کہ عید کے تہوار کو قمری کیلنڈر کے ہلال سے جوڑ دیا گیا۔ اس طرح نے چاند کا ظہور تہوار کی آمد کا ایک آسمانی اعلان بن جاتا ہے۔ تا ہم اس خوشی کا رخ اعلیٰ انسانی قدروں کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہلال کو دیکھا تو یہ دعائیہ کلمات آپ کی زبان سے نکلے: اللّهم اهلّه علينا بالامن والايـمان والسلامة والاسلام، ربی وربک الله (مشکوة المصابیح ۵۱/۲)، یعنی اے اللہ، اس چاند کو ہمارے لئے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues