Al-Risala · February 1997 · page 6

اسلامی تہوار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۶

امن اور یقین کا چاند بنا دے۔ اس کو سلامتی اور اطاعت کا چاند بنا دے۔ میرا رب بھی اللہ ہے، اور اس چاند کا رب بھی اللہ۔

یہ دعا بتاتی ہے کہ عید کا چاند دیکھ کر لوگوں کے اندر کس قسم کے احساسات وجذبات پیدا ہونے چاہئیں ۔ وہ یہ کہ ہمارے اندر یہ تمنا اہل پڑے کہ آنے والے دن ہمارے لئے اور ساری انسانیت کے لئے امن کے دن ہوں ۔ جب کہ تمام لوگوں کو صحت وسلامتی کی نعمتیں حاصل ہوں ۔ انسانی خوشیوں میں چاند کی شرکت کو دیکھ کر انسان کے اندر یہ احساس جاگ اٹھے کہ پوری کائنات ایک وسیع خدائی عیال ہے۔ اس میں انسان سے لے کر آسمانی اجرام تک سب شامل ہیں۔ سب ایک ہیں، اس لئے کہ سب کا خدا ایک ہے۔

پھر جب صبح آتی ہے تو تمام بڑے اور بچے ، عورتیں اور مرد نہادھو کر صاف کپڑے پہنتے ہیں۔ اپنی پسندیدہ خوراک کھا کر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد گھر سے چل کر کسی کھلے میدان میں پہنچتے ہیں۔ اور وہاں دو رکعت شکر کی نماز پڑھتے ہیں۔ اس طرح گویا وہ اقرار کرتے ہیں کہ جس خدا نے خوشی کا موقع دیا ہے، وہی خدا اس قابل ہے کہ اس کے لئے اس کا شکر ادا کیا جائے۔ نماز کے بعد امام خطبہ دیتا ہے جس میں نصیحت کی باتیں ہوتی ہیں۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ خوشی ہر انسان کا حق ہے۔ مگر خوشی کو ذمہ داری کے حدود میں رہ کر منانا چاہئے۔ اس کے بعد لوگ آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ ایک دوسرے کو تحفہ دیتے ہیں۔ سلامتی اور مبارکبادی کے کلمات کے ساتھ ایک دوسرے کا استقبال کرتے ہیں۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس طرح کہ ایک کی خوشی دوسرے کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہو۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر ان کی خوشی میں شور وغل نہیں ہوتا ۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس احتیاط کے ساتھ کہ راستوں میں کوئی گندگی نہ پھیلے ۔ ان کی خوشی پڑوسیوں کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہ کرے ۔ وہ خوشی مناتے ہیں مگر اس طرح کہ مقصدیت کا عنصر کسی طرح اس سے حذف نہ ہونے پائے۔

اسلامی تیوہار کے دن جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ، ان میں سے ایک صدقہ ہے۔ نقد کی صورت میں بھی اور کھانے پینے کی چیزوں کی صورت میں بھی ۔ یہ گویا انفرادی خوشی کی اجتماعی توسیع ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ایک کو خوشی منانے کے اسباب مہیا کئے جائیں۔ سماج میں کوئی ایسا نہ رہے

‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues

Printed page