تعارف کا مسئلہ
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
تعارف کا مسئلہ
ایک مقولہ ہے۔ جیسا سماجی تعارف ویسا سماجی معاملہ۔ یعنی آدمی اپنے ماحول میں جس طرح اپنے آپ کو متعارف کرے گا اسی کے مطابق ماحول میں اس سے معاملہ کیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا پختہ اصول ہے جس میں شاید کوئی استثناء نظرنہیں۔ ایک بار میں دہلی سے حیدر آباد جا رہا تھا۔ دہلی ایرپورٹ پر جب میں سیکورٹی چیک کے لیے اندر داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ دوسرے مسافروں کے بیگ کھول کر دیکھے جا رہے ہیں۔ میرے ساتھ ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں صرف ایک جوڑا کپڑا تھا اور قرآن کا ایک نسخہ۔ چوں کہ میرے خیال کے مطابق میرے بیگ میں کوئی چیکنگ والی چیز نہیں تھی میری زبان سے نکلا۔ کیا اس کو کھولنا ہوگا۔ میز کے دوسری طرف پولیس کی وردی میں کھڑے ہوئے آدمی نے کسی قدر درشت لہجہ میں کہا کہ کیوں نہیں (Why not) میں نے فوراً اپنا بیگ کھول دیا۔ آدمی نے میرے بیگ کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو اس میں اسے کوئی قابل اعتراض چیز نہیں آئی۔ آخر میں اس نے اس میں رکھی ہوئی کتاب اٹھائی اور پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ قرآن۔ جیسے ہی میری زبان سے قرآن کا لفظ نکلا آدمی کا موڈ بالکل بدل گیا۔ جو آدمی پہلے سختی اور غیریت کے لہجہ میں بول رہا تھا وہ نرمی اور تواضع کے لہجہ میں بولنے لگا۔ یہ فرق کیوں پیش آیا۔ اس کی وجہ سادہ طور پر یہ تھی کہ پہلے میں مذکورہ شخص کی نظر میں صرف صاحب بیگ تھا، مگر بعد کو میں اس کی نظر میں صاحبِ قرآن بن گیا۔ جب تک میں اس کی نظر میں صاحب بیگ تھا، وہ مجھ کو عام مسافروں کی نظر سے دیکھ رہا تھا، لیکن جب اس نے مجھ کو صاحبِ قرآن کے روپ میں دریافت کیا تو اس کی نظر میں میری نوعیت بدل گئی اب وہ مجھ کو ایک اور نظر سے دیکھنے لگا۔
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ماحول آپ کے ساتھ اچھا معاملہ کرے تو ضروری ہے کہ آپ اس کے مطابق اپنی تصویر بنائیں۔ اپنے ماحول کے اندر آپ اپنے کو جس طرح متعارف کریں گے اسی کے مطابق ماحول بھی آپ کے ساتھ معاملہ کرے گا، نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues