دوسرا چانس
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷
دوسرا چانس
دہلی میں ایک ڈگری کالج ہے جس کو ایک ہندوسنستھا چلاتی ہے۔ اس میں لکچر شپ کی ایک جگہ نکلی۔ جن لوگوں نے درخواست دی ان میں سے ایک مسلمان بھی تھے۔ انٹرویو ہوا تو ایک ہندو امیدوار کو چن لیا گیا۔ مسلم امیدوار نا کام کر دئے گئے۔
مذکورہ مسلمان سے میری ملاقات ہوئی تو وہ بہت جھنجلائے ہوئے تھے۔ انھوں نے اس کو تعصب کا معاملہ سمجھا۔ ان کا خیال تھا کہ وہ اس کے خلاف اخبار میں لکھیں اور مذکورہ کالج کے تعصب کو ایکسپوز کریں۔ میں نے انھیں منع کیا۔ میں نے کہا کہ ابھی تو آپ نے صرف ایک چانس کو کھویا ہے۔ زندگی میں ہمیشہ ایک چانس کے بعد دوسرا چانس آتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ پہلے چانس کے کھوئے جانے پر بددل نہ ہو بلکہ دوسرے چانس کا انتظار کرے۔
ایک سال کے بعد پھر اسی کالج میں ایک لکچر کی جگہ نکلی۔ اس کا اعلان اخبار میں چھپا تو مذکورہ مسلمان نے دوبارہ اس کے لیے اپنی درخواست بھیج دی۔ اس بار ایسا ہوا کہ لکچر شپ کی اس جگہ کے لیے مذکورہ مسلمان کے علاوہ دو ہندو امیدوار بھی تھے۔ دونوں کو دو طاقتور ہندوؤں کا سپورٹ حاصل تھا۔ یہ ایک نازک مسئلہ تھا۔ کالج کے ذمہ دار دونوں ہندوؤں کو نہیں لے سکتے تھے اور ان میں سے ایک کو لینے کا مطلب یہ تھا کہ دوسرے ہندو امیدوار کا سپورٹر ناراض ہو جائے ۔ اس نزاکت کا حل انھوں نے یہ تلاش کیا کہ دونوں ہندوؤں کو چھوڑ کر مذکورہ مسلمان کو منتخب کر لیا۔ یہ مسلمان ابھی تک اسی کالج میں کام کر رہے ہیں اور اب انھوں نے دلی میں اپنا ذاتی گھر بنا لیا ہے۔
یہی زندگی میں کامیابی کا راز ہے۔ اگر آپ سے پہلا چانس کھو جائے تو آپ ہرگز بددل نہ ہوں۔ بلکہ سادہ طور پر صرف یہ کریں کہ دوسرے چانس کا انتظار کریں۔ اگر آپ ایسا کر سکیں تو یقینی طور پر دوسرا چانس آپ کے لیے آئے گا اور جو کامیابی آپ کو پہلی کوشش میں نہیں ملی تھی وہ بلاشبہ دوسری کوشش میں آپ کو مل جائے گی۔ دنیا مواقع سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر ایک موقع کے بعد دوسرا موقع آتا ہے، ٹھیک اسی طرح جیسے تاریک شام کے بعد روشن صبح۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues