Al-Risala · December 1997 · page

رمضان کا روزہ

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۷

رمضان کا روزہ

۲۵ جنوری ۱۹۹۷ء کو دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں روزہ پر ایک اجتماع تھا۔ اس موقع پر جناب سید حامد صاحب نے کہا کہ ایک بار دہلی میں ایک جلسہ تھا جس میں مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ایک تقریر ڈاکٹر تارا چند کی بھی تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سال کا پورا ایک مہینہ روزہ میں بتانے کا جو طریقہ مسلمانوں میں ہے اس کے بارہ میں مسلمانوں کو نظر ثانی کرنا چاہیے۔ یہ اپنی کارکردگی کو گھٹانے کے ہم معنی ہے۔ یہ طریقہ مسلمانوں کی کرترقی کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔

میں نے اپنی تقریر میں اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک غیر معقول اعتراض ہے۔ علمی حیثیت سے اس کے اندر کوئی وزن نہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ روزہ کوئی فاقہ کشی (starvation) نہیں ہے۔ روزہ دار ایک مہینہ کے دوران صرف یہ کرتا ہے کہ وہ دن میں نہ کھا کر رات کو کھاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بعض فرقے ایسے ہیں جو ۲۴ گھنٹہ میں صرف ایک بار کھاتے ہیں۔ اس کے باوجود انھوں نے ہر قسم کی ترقیاں حاصل کی ہیں۔ پھر ایک مہینہ کے لیے دن کے بجائے رات کو کھانا کیوں ترقی میں رکاوٹ بن جائے گا۔

روزہ دراصل اپنی غذائی عادتوں (food habits) پر کنٹرول کرنے کا نام ہے۔ اس کو ایک لفظ میں غذائی تنظیم (regulated eating) کہہ سکتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ یہ جسمانی صحت کے لیے بہترین طریقہ ہے۔ منظم انداز میں خوراک لینے والے ہمیشہ صحت مند رہتے ہیں اور زیادہ کام کرتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر منظم خوراک لینے والے لوگ اپنی صحت کو خراب کر لیتے ہیں اور نتیجہ اپنی کارکردگی کی مقدار کو بھی گھٹا لیتے ہیں۔

ماہ رمضان کے روزہ کا مطلب شاید مذکورہ قسم کے لوگ یہ لے لیتے ہیں کہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک مہینہ تک مسلسل کھانا اور پینا چھوڑ کر فاقہ کی زندگی گزاریں۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اسلامی حکم کا مطلب صرف یہ ہے کہ عام حالت میں اگر لوگ دن کو کھاتے ہیں اور رات کو نہیں کھاتے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1997 All issues

Printed page