اسلامی تہوار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۷
جو خوشی کے اسباب سے محروم ہو۔ جو اپنی خوشی کی مادی قیمت دینے سے عاجز ہو جائے۔ صحیحین کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکر عید کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئے۔ اس وقت دولڑکیاں حضرت عائشہ کے پاس بیٹھی ہوئی دف بجارہی تھیں اور عربی گانے گارہی تھیں۔ حضرت ابو بکر نے ان کو ڈانٹا کہ رسول کے گھر میں تم لوگ گانے بجانے کا لغو کام کررہی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے اپنے چہرہ سے چادر ہٹائی اور فرمایا کہ اسے ابو بکر ، انہیں چھوڑ دو ، ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے اور آج ہماری عید ہے (فتح الباری ۵۱۶/۲)
اسلام میں خوشی منانے کو تہذیب اور انسانیت کی حد میں رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم خوشی ایک ایسی چیز ہے جو ہمیشہ حد کی پابند نہیں رہتی۔ وفور شوق میں کبھی کبھی کوئی شخص تجاوز بھی کر جاتا ہے۔ اس لئے حد بندی کے ساتھ اسلام میں انسانی جذبات کی رعایت بھی رکھی گئی ہے۔ اور وہ رعایت یہ ہے کہ اگر کوئی عورت یا مرد وقتی جذبہ کے تحت کچھ سادہ قسم کی بے ضرر تفریح کر لیں تو سماج کے بڑوں کو چاہئے کہ وہ اسے نظر انداز کریں۔ وہ اس قسم کی معصومانہ خوشی پر روک لگانے کی کوشش نہ کریں۔
ایک بزرگ نے کہا: ليس العيد لمن تزين بزينة الدنيا ، إنما العيد لمن تزود من آۃ التقویٰ۔ یعنی عید اس کی نہیں ہے جو دنیا کی زینت سے اپنے آپ کو سنوارے بلکہ عید اس کی ہے جو آخرت کے لئے تقویٰ کا زاد راہ اکٹھا کر لے۔
اس قول سے اسلامی تہوار کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ اسلامی تیوہار وہ ہے جس میں خوشی کے ساتھ خدا کا شکر شامل ہو جس میں کہیں کے ساتھ اعتدال موجود ہو۔ جس میں بے تکلفی ہو مگر وہ ادب کے دائرہ میں ہو۔ جس میں کھانا پینا ہو مگر وہ اسراف سے پاک ہو۔ جس میں انسانی جذبات کی رعایت ہو مگر وہ خدائی احکام کے ماتحت ہو۔ جس میں تفریح ہو مگر اس کے ساتھ اس میں مقصدیت بھی پوری طرح برقرار رہے۔
یہ ہے عید ، اور یہ ہے تیوہار کا اسلامائزیشن۔
نوٹ: آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے ۲۱ فروری ۱۹۹۶ کو نشر کیا گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues