Al-Risala · January 1997 · page 6

اخلاقی پرہیزگاری

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۶

اخلاقی پرہیزگاری

حدیث میں رمضان کو شہر الصبر کہا گیا ہے (مشکاۃ المصابیح ا/ ۶۱۳) یعنی صبر و برداشت کا مہینہ۔ اس مہینہ میں آدمی کو اس بات کی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے منفی جذبات پر قابو رکھتے ہوئے فتنوں کی اس دنیا میں کامیاب زندگی گزار سکے۔ آدمی کے منفی جذبات ہی اس کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور روزہ اسی سب سے بڑے انسانی مسئلہ کے حل کی ایک مقدس تدبیر ہے۔

اس بات کو حدیث میں اس طرح کہا گیا ہے کہ ہر چیز کی ایک زکوٰۃ ہوتی ہے، اور جسم کی زکوٰۃ روزہ ہے (مشکاۃ المصابیح ۱/ ۶۳۹) یہاں زکوٰۃ سے مراد پاکی ہے۔ یعنی ہر چیز کو پاک کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ اور جسم کو پاک کرنے کے لئے روزہ کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ روزہ کی حیثیت جسم انسانی کے لئے غسل جیسی ہے۔ پانی کا غسل جسم کے ظاہری حصہ کو پاک کرتا ہے، اور روزہ جسم کے باطنی حصہ کو پاک کرنے والا ہے۔

حدیث میں ہے کہ جب تم میں سے کسی کو کھانے کے لئے بلا یا جائے اور وہ روزہ دار ہو تو اس کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں ( اذا دعی احد کم الی طعام و هو صائم فلیقل انی صائم، مشکاۃ المصابیح ۱/ ۶۴۱)

ایک اور حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا روزہ کا دن ہو تو وہ نہ بری بات بولے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے یا اس سے لڑائی کرنے پر آمادہ ہو تو اس کو یہ کہہ دینا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں۔ (مشکاۃ المصابیح ۱/۶۱۱)

روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی عملی پر ہیز کی حالت اپنے آپ پر طاری کرے۔ اس طرح اس کے اندر ایک قسم کی پرہیزی فکر ابھرتی ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ دنیا میں مجھے پر ہیز والی زندگی گزارنا ہے۔ ایسی حالت میں اگر کوئی اسے کھانے کی کوئی چیز پیش کرے تو وہ فوراً کہہ دیگا کہ میں روزہ دار ہوں۔ کوئی اس کو برا کہے یا اس کے ساتھ اشتعال انگیزی کرے تو اس کے جواب میں وہ مشتعل نہیں ہوگا۔ کیوں کہ اس کا دل اس کے اندر سے کہہ رہا ہوگا کہ تم نے تو روزہ رکھ کر پر ہیزگار بننے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues

Printed page