اخلاقی پرہیزگاری
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۷، صفحہ ۷
کا عہد کر رکھا ہے۔ تم کیسے بُرائی کے فعل میں کسی کے ساتھ شریک ہو سکتے ہو۔ اس طرح روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ غیر انسانی باتوں سے پرہیز کرے، وہ غیر شریفانہ قسم کے قول و فعل سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ وہ اخلاقی پر ہیز کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنے لگے۔
یہ پرہیز گاری ہی موجودہ دنیا میں ہر قسم کی دینی اور دنیوی ترقی کی واحد ضمانت ہے۔ اس دنیا میں آدمی کو امتحان کے لئے بسایا گیا ہے۔ اس لئے یہاں طرح طرح کی آزمائشی ترغیبات بھی رکھ دی گئی ہیں تاکہ اس کے ذریعہ آدمی کو جانچا جائے، اور یہ دیکھا جائے کہ کون آزمائش میں پورا اترا، اور کون آزمائش میں ناکام ہو گیا۔
سب سے پہلے آدمی کا اپنا نفس ہے۔ آدمی کے نفس کے اندر بہت سے ناپسندیدہ جذبات پیدائشی طورپر موجود ہیں۔ مثلاً حسد، غصہ، نفرت، بغض، خود غرضی، مفاد پرستی، خود بینی، مصلحت پرستی اور انانیت وغیرہ۔ جب کوئی موقع آتا ہے تو یہ جذبات ابھرتے ہیں اور آدمی کو اپنی طرف کھینچ لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ آزمائش کی گھڑی ہوتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی اسی پر ہیز گاری کے اصول پر عمل کرے جس کی تربیت ایک اضافی کورس کے ذریعہ رمضان کے مہینہ میں اس کو دی گئی ہے۔
اسی طرح شیطان بار بار آدمی کو بہکاتا ہے۔ انسانی پروپیگنڈے اس کو غلط سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ عمومی رواج آدمی کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ ان تمام مواقع پر آدمی گمراہی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت جو آدمی پر ہیز گاری کا اصول اختیار کر کے اپنے کو انحراف سے بچا لے وہ کامیاب ہے، اور جو شخص ایسا نہ کر سکے وہ دنیا میں بھی ناکام ہے اور آخرت کی طویل تر زندگی میں بھی ناکام۔
"پرہیز" ایک مستقل اصول ہے۔ اور روزہ اسی پر ہیز کے اصول کا ایک سبق ہے۔ روزہ دار وہی ہے جس کا روزہ اس کو پر ہیزگارانہ زندگی گزارنے کے قابل بنا دے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1997 All issues