عیدالاضحیٰ
الرسالہ، فروری ۱۹۹۷، صفحہ ۹
اعلی ترین انقلاب برپا کیا۔
عید اضحیٰ اسی ابراہیمی تاریخ کو تہوار کی صورت میں دہرانے کا دن ہے۔ حضرت ابراہیم نے اپنے وقت میں اس کو ایک خاص صورت میں دہرایا۔ آئندہ بھی یہ ابراہیمی عمل جاری رہے گا۔ البتہ اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔
عید اضحیٰ کے موقع پر جب ایک شخص جانور کو ذبح کرتا ہے تو وہ اپنی زبان سے عربی کے وہ الفاظ کہتا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے: بے شک میری عبادت اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ خدایا، تجھی نے دیا ہے اور تجھی کو میں اسے لوٹاتا ہوں۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی قربانی تو خود اپنی ذات کی ہے۔ اصل قربانی یہ ہے کہ آدمی اپنی ذات کو بچائے بغیر اس کو خدا کے حوالے کر دے۔ وہ اپنے وجود کی حوالگی کے لئے خدا سے عہد کرتے ہوئے بطور علامت ایک جانور کو ذبح کر رہا ہے، جس طرح حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو خدا کے منصوبہ کے حوالے کرتے ہوئے ایک جانور کو نذر دینے کے طور پر ذبح کیا تھا۔ حضرت ابراہیم کے لئے دنبہ کو ذبح کرنا علامتی معنوں میں تھا۔ اسی طرح آج عید اضحیٰ کے موقع پر یا حج کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا بھی ایک علامتی عمل ہے نہ کہ وہی اصل عمل۔ علامتی ذبیحہ کے لئے جانور کا انتخاب سب سے زیادہ فطری انتخاب ہے۔ یہ گویا معمول کے حالات کو ایک غیر معمولی سبق کے لئے استعمال کرنا ہے۔ خدائی شریعت کے مطابق ، آدمی بار بار ایسا کرتا ہے کہ وہ جانور کو اپنی خوراک کے لئے ذبح کرتا ہے۔ اسی عمل کو ایک دن نیا عنوان دے دیا گیا۔ گویا کہ ایک ہونے والی بات میں مزید ایک سبق کا پہلو پیدا کر دیا گیا۔ عید اضحیٰ اسی ابراہیمی تاریخ کو تہوار کی صورت میں دہرانے کا دن ہے۔ حضرت ابراہیم نے اپنے وقت میں اس کو ایک خاص صورت میں دہرایا۔ آئندہ بھی یہ ابراہیمی عمل جاری رہے گا، البتہ اس کی صورتیں مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس کی علامتی صورت تو ہمیشہ ایک رہے گی، یعنی عید قرباں کے موقع پر جانور کو ذبح کرنا۔ مگر اسپرٹ کے اعتبار سے اس کی صورتیں ایک سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔ جس وقت اسلام کو جس قسم کی مشقت اور قربانی مطلوب ہو، اس
‹ Previous page Next page › Contents of February 1997 All issues