It is all peace till the rising of the dawn.
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲
قضا و قدر کے محکم اور اٹل فیصلے زمین میں کام کرنے والے فرشتوں پر خدا کی طرف سے اتارے جاتے ہیں۔ یہ رات رمضان میں آتی ہے۔ چنانچہ رمضان کی آخری راتوں میں روزہ دار خصوصی طور پر عبادت کرتے ہیں تاکہ وہ اس رات کے فیوض کو پاسکیں۔ اس سورت (القدر) کا ترجمہ یہ ہے :
ہم نے اس کو اتارا ہے شب قدر میں۔ اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے۔ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں۔ ہر حکم لے کر۔ وہ رات سراسر سلامتی ہے، صبح نکلنے تک ۔
اس سورۃ میں لیلۃ القدر کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہزار مہینے سے بہتر ہے۔ یہ مدت تقریباً ۸۴ سال بنتی ہے۔ یعنی وہ مدت جو کہ انسان کی اوسط عمر کی مدت ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ آدمی اگر شب قدر کی برکتوں کو پالے جو گویا روزے کی سعادتوں کا آخری نقطۂ عروج (culmination) ہے تو وہ تمام عمر کے لیے اصلاح یافتہ ہو جائے گا ۔ اور اگر وہ شب قدر کی سعادتوں کو جزئی طور پر پائے تب بھی کم از کم سال بھر اس کی زندگی پر اس کے مبارک اثرات باقی رہیں گے۔ رمضان کے مہینے کی اس اہم ترین رات کی صفت یہ بتائی گئی ہے کہ وہ سلامتی ہی سلامتی ہے :
It is all peace till the rising of the dawn.
اس سے روزہ کا ایک اور اہم پہلو معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ روزہ کا مقصد آدمی کے اندر صفت پیدا کرنا ہے کہ اس کی روح سراپا سلامتی بن جائے۔ وہ اپنے سماج کے اندر امن و سلامتی کے ساتھ رہنے لگے۔ سلامتی کی روح وہ ہے جو تکلیفوں میں بھی پرسکون رہے، مادی رغبتوں سے اوپر اٹھ جائے جو ناخوش گواریوں کے ماحول میں بھی خوش گوار جذبات کے ساتھ جینے لگے۔
جس انسان کے اندر سلامتی کی یہ صفت پیدا ہو جائے اس کا وجود پورے ماحول کے لیے سلامتی بن جاتا ہے۔ وہ سماج کا ایک ایسا پرامن شہری بن جاتا ہے جس سے دوسروں کو صرف امن و سلامتی ملے۔ حتیٰ کہ دوسرے لوگ اگر اس کو ستائیں تب بھی وہ اپنی پرامن روش پر پوری طرح قائم رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues