Al-Risala · January 1998 · page 13

ذائقہ ایمان

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۸، صفحہ ۱۳

ذائقہ ایمان

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان کا مزہ چکھا اس شخص نے جو اللہ کی ربوبیت پر ذاق طعم الایمان من رضی بالله رباً راضی ہوگیا۔ جو محمد کی رسالت پر راضی ہوگیا اور وبمحمد رسولاً وبالاسلام دینا۔ اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو گیا۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایمان و اسلام کا معاملہ کوئی خشک معاملہ نہیں ہے بلکہ ذائقہ کا معاملہ ہے۔ اگر آپ پھل کے چھلکے کو کھائیں تو آپ کو اس سے کوئی ذائقہ نہیں ملے گا۔ مگر جب آپ پھل کا مغز کھاتے ہیں تو آپ کو اس میں ایک ذائقہ ملتا ہے۔ یہی معاملہ ایمان کا ہے۔ ایمان کو بھی اگر حقیقی طور پر اختیار کیا جائے تو وہ آدمی کے لیے نہایت اعلیٰ ذائقہ کی چیز بن جائے گا۔

حدیث کے مطابق ، ایمان کا یہ درجہ آدمی کو " رضا مندی" کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ آدمی جب دل کی آمادگی کے ساتھ پوری طرح دین پر راضی ہو جائے تو دین اس کے لیے ذائقہ کی چیز بن جاتا ہے۔ ذائقہ ایک تقابلی لفظ ہے یعنی بد مزگی کے مقابل میں خوش مزگی۔ ایمان آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا کرتا ہے کہ غیر دینی بات اس کو بد مزہ معلوم ہو اور وہ اس کو کراہت کے ساتھ چھوڑ دے۔ اس کے مقابلے میں دینی بات اس کو خوش مزہ محسوس ہو اور اس کو وہ پسندیدگی کے ساتھ اختیار کرلے۔ خدا کو اپنا رب بنانے کا مطلب خدا کو اپنا سب کچھ بنالینا ہے۔ جب کوئی آدمی پورے معنوں میں خدا کو اپنا سب کچھ بناتا ہے تو بار بار اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں بظاہر وہ دنیوی نقصان سے دوچار ہو رہا ہے مگر وہ اس نقصان کو بخوشی برداشت کرتا ہے۔ کیوں کہ خدا سے تعلق ہی اس کے لیے لذیذ ترین تجربہ بن جاتا ہے۔ خواہ اس میں نقصان ہو یا فائدہ۔

اسی طرح ایک مومن جب زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کو اختیار کرنے میں دنیوی مصلحتیں مجروح ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود وہ طریقۂ نبوی پر قائم رہتا ہے۔ کیوں کہ ۔ طریقہ نبوی کو چھوڑنا اس کے لیے بد ذائقہ چیز بن جاتی اور طریقۂ نبوی پر قائم ہونا ایک خوش ذائقہ چیز۔

یہی معاملہ وسیع تر معنوں میں پورے اسلام کا ہے۔ اسلام کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی پوری زندگی

‹ Previous page Next page › Contents of January 1998 All issues

Printed page