تعلیم نہ کہ طرزِ تعلیم
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۱
تعلیم نہ کہ طرزِ تعلیم
آزادی کے بعد ہندوستان میں تعلیم کا چرچا ، الفاظ کی حد تک ، بہت زیادہ کیا گیا ہے۔ مگر یہ تمام چرچا جس فکر کے گرد گھومتا رہا ہے ، وہ نفسِ تعلیم سے زیادہ لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسی کا ردِ عمل (Reaction) تھا، چنانچہ اس پوری مدت میں سب سے زیادہ جس چیز پر زور دیا گیا وہ بذاتِ خود تعلیم نہ تھی ، بلکہ اس کا طرز (Pattern) تھا۔ پچھلی تقریبا نصف صدی میں ہمارے یہاں تعلیم سے زیادہ طرزِ تعلیم پر زور دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اصل کام ، قوم کو تعلیم یافتہ بنانا ، یہ تو نہ ہو سکا۔ البتہ تعلیم کے نام پر اختلافات بہت زیادہ ظہور میں آگئے جن کا سلسلہ آج تک جاری ہے ۔
اس کے مقابلہ میں جاپان کی مثال لیجئے۔ جاپان میں دوسری عالمی جنگ کے بعد جو تعلیمی نظام رائج ہوا ، وہ بنیادی طور پر امریکہ کا تجویز کیا ہوا تھا۔ ۱۹۴۶ء میں تعلیم کے امریکی ماہرین (American experts on educational affairs) جاپان آئے ۔ انھوں نے امریکی نقطۂ نظر کے مطابق ، ایک رپورٹ تیار کی جس کا نام یہ تھا :
Report of the United States Education Mision to Japan. (6/392)
امریکی ماہرینِ تعلیم کی یہی وہ رپورٹ تھی جس کے مطابق جاپان کا نظامِ تعلیم بنایا گیا ، اور جو آج تک کسی بنیادی تبدیلی کے بغیر رائج ہے۔ بالفاظ دیگر ، جاپان کی پوری جدید نسل نے "لارڈ میکالے" کے تعلیمی نقشہ کی پیروی میں تعلیم حاصل کی۔ مگر نتیجہ کے اعتبار سے دیکھیے تو ہندوستان ناکام رہا اور جاپان کامیاب رہا۔ ہندوستان تمام ملکوں سے پیچھے ہے اور جاپان تمام ملکوں سے آگے ۔ ہندوستان طرزِ تعلیم کے پیچھے پڑا رہا ، وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ جاپان نے طرزِ تعلیم کے مسئلہ کو نظر انداز کر کے صرفِ تعلیم پر اپنی ساری توجہ لگادی ، اور وہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اس تجربہ سے ثابت ہوتا ہے کہ تعلیم کے سلسلہ میں اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ کسی بھی طرح قوم کو تعلیم یافتہ بنا دیا جائے۔ اس معاملہ میں طرزِ تعلیم کی اہمیت صرف اضافی ہے نہ کہ حقیقی ۔ اصل مسئلہ پڑھنا ہے نہ یہ کہ کیسے پڑھا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues