Al-Risala · March 1998 · page 12

حسن اخلاق

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۲

حسن اخلاق

ہر آدمی بے اخلاق ہے اور ہر آدمی با اخلاق ۔ آپ کسی بھی آدمی کا جائزہ لیجیے ۔ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ نہایت اچھا اخلاق برتے گا ، اور کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں وہی آدمی اخلاق سے خالی نظر آئے گا ۔ یہی موجودہ زمانہ میں ہر آدمی کا کیس ہے ۔

بیشتر لوگ وہ ہیں جن کا اخلاق ان کے ذاتی مفاد کے تحت کام کرتا ہے ۔ جہاں ان کا ذاتی مفاد ہو اور ذاتی مصلحت کا تقاضا ہو وہاں وہ اخلاق کا پیکر بن جائیں گے۔ اور جہاں ان کا کوئی فائدہ اور مصلحت نہ ہو وہاں وہ ایسے بے حس بن جائیں گے جیسے کہ اخلاقی تقاضوں سے وہ آشنا ہی نہیں ۔ انھیں میں کچھ لوگ وہ ہیں جو نسبتاً بہتر نظر آتے ہیں۔ تاہم ان کا اخلاق بھی ان کی نفسیات کے تابع ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص ان سے متواضع بن کر ملے تو وہ بھی اس کے لیے متواضع بنے رہیں گے۔ ایسے آدمی کے ساتھ وہ شریفانہ اخلاق کا برتاؤ کریں گے۔ مگر جو شخص کسی وجہ سے ان کی انا کو ٹھیس پہنچا دے تو اس کے لیے وہ اپنی ساری شرافت کھودیں گے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کا اخلاق بربنائے اصول نہیں ہوتا بلکہ بربنائے ذات ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اخلاقی اصولوں کے ماتحت نہیں کرتے بلکہ خود اخلاق کو اپنا ماتحت سمجھتے ہیں۔ ذاتی تقاضے اور اخلاق میں ٹکراؤ نہ ہو تو وہ اخلاق برتیں گے۔ اور جب ذاتی تقاضے اور اخلاق میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے تو وہ اخلاق و شرافت کو بھی خیر باد کہہ دیں گے ۔

سچا انسان وہ ہے جو با اصول انسان ہو۔ جو اصول کو اپنی زندگی میں سپریم حیثیت دیے ہوئے ہو، جو ہر حال میں اخلاقی اصولوں کی پابندی کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف ۔ وہ اخلاق کو اخلاق کے لیے اختیار کرے نہ کہ مفاد کے لیے ۔ وہ جس طرح اپنے دوست کے لیے با اخلاق ہوتا ہے اسی طرح وہ اپنے دشمن کے لیے بھی با اخلاق ہو۔ وہ اپنی تنقید کرنے والے کو بھی اسی طرح خوش اخلاقی کا تحفہ دے جس طرح وہ اپنی تعریف کرنے والے کو خوش اخلاقی کا تحفہ دیتا ہے۔ جو لوگ اخلاق کو مستقل اصول کے طور پر اختیار کریں وہی حقیقتاً با اخلاق ہیں۔ جن لوگوں کا اخلاق ان کے مفاد یا مزاج کے تابع ہو انھیں کبھی حسن اخلاق کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page