Al-Risala · March 1998 · page 14

ناقابلِ تسخیر طاقت

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۴

ناقابلِ تسخیر طاقت

اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ میں بار بار نشیب و فراز کے واقعات پیش آئے ہیں مگر یہ تمام واقعات سماجی اور اقتصادی اور سیاسی پہلوؤں سے تعلق رکھتے تھے۔ جہاں تک دعوت کا مسئلہ ہے، اس اعتبار سے اسلام مسلسل تاریخ میں مارچ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ دعوت کے پہلو سے اسلام کبھی زوال کا شکار نہیں ہوا۔ اسلام کا دعوتی پہلو اس حد تک ناقابل شکست ہے کہ وہ اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب کہ مسلمان اپنے ضعف کی بنا پر مؤثر دعوتی عمل کو جاری کرنے کے قابل ہی نہ رہے ہوں۔

اس کی ایک واضح تاریخی مثال تاتاریوں کا مسئلہ ہے۔ قدیم زمانہ میں ترکستان (روس) اور منگولیا (چین) کے علاقے میں کچھ قبائل آباد تھے جن کو ترک کہا جاتا تھا۔ ان کا ایک سردار چنگیز خان ۱۲۲۷ء) تھا۔ یہ غیرمعمولی صلاحیت کا آدمی تھا۔ وہ ۲۰ ہزار جنگ جو افراد کو جمع کرکے اپنے علاقے سے نکلا اور فتوحات کرتا ہوا چین سے ایران تک پہنچ گیا۔ اس کے بعد یہ قبائل آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہلاکو خان (۱۲۶۵- ۱۲۱۶ء) اٹھا۔ اس نے اسلامی سلطنت کو برباد کرنے کے بارے میں اپنے دادا (چنگیز خان) کے منصوبے کو مکمل کیا۔ اس نے دار السلطنت بغداد کو بالکل تباہ و برباد کر دیا اور خلیفہ معتصم باللہ کو بے رحمی کے ساتھ قتل کر ڈالا۔ تاتاری سرداروں کو مسلم حکمراں( خوار زم شاہ) سے کچھ شکایت پہنچی تھی، اس بنا پر وہ غضب ناک ہو گئے اور مسلم سلطنت کو برباد کرنے کے درپے ہو گئے۔ یہ اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ خوف ناک واقعہ تھا۔ تاتاریوں کے ظلم و فساد کی بنا پر اسلامی دنیا میں ان کا اتنا زیادہ ہول طاری ہوا کہ کہا جانے لگا : (اذا قيل لك ان التتر ‌انْهَزَمُوا فلا تصدق) (اگر کہا جائے کہ تاتاری شکست کھا گئے تو یقین مت کرنا) اس کے بعد صرف ۵۰ سال کے اندر تاریخ دوسرا منظر دیکھتی ہے۔ ناقابلِ قیاس طور پر یہ معجزہ پیش آتا ہے کہ یہی ترک (تاتاری) جو اسلام کے کٹر دشمن تھے وہ اس کے دوست اور خادم بن گئے۔ ان کی بیشتر تعداد نے بہت تھوڑی مدت میں اسلام قبول کر لیا۔ اس

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page