ناقابلِ تسخیر طاقت
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۱۵
کے بعد وہ مکمل طور پر ایک بدلی ہوئی قوم بن گئے۔ انھوں نے مسلم دنیا کو دوبارہ آباد کیا۔ سمر قند سے لے کر حلب تک جن مسجدوں کو انھوں نے ڈھادیا تھا ان کی دوبارہ تعمیر کر کے ان کے اندر خدائے واحد کے لیے سجدہ کیا۔ اس کے بعد تقریباً ۶۰۰ سال تک وہ اسلام کے خادم اور سپاہی بنے رہے۔
یہ معجزہ کیسے پیش آیا۔ پروفیسر آر نلڈ نے تحقیق کر کے بتایا ہے کہ اس کی صورت یہ ہوئی کہ فاتح تاتاریوں نے بہت بڑی تعداد میں مسلمان مردوں اور عورتوں کو گرفتار کیا اور ان کو اپنے گھروں میں خادم اور خادمہ بنا کر رکھ لیا، اس طرح ان کا اختلاط ہر وقت مسلمان مردوں اور عورتوں سے ہونے لگا۔ وہ بار بار دیکھتے تھے کہ مسلمان مرد یا عورت کوئی ایسا عمل کر رہے ہیں جو ان کی مانوسات کے خلاف ہے۔ مثلاً ملاقات کے وقت السلام علیکم کہنا۔ کوئی کام شروع کرتے ہوئے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہنا۔ مختلف مواقع پر الحمد للہ اور جزاک اللہ کہنا۔ اسی طرح نماز اور دوسری عبادات وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز تاتاریوں کو اپنے معلوم اور مانوس طریقہ سے مختلف دکھائی دیتی تھی۔ وہ ان پر سوالات کرتے تھے۔ اس طرح گفتگوؤں کے دوران اسلام کی تعلیمات ان پر واضح ہونے لگیں۔
اسی کے ساتھ یہ ہوا کہ تاتاری جب بازاروں میں نکلتے، شکار یا اور کسی کام سے باہر جاتے تو بار بار ان کا سابقہ کسی مسلمان سے پڑتا تھا۔ ان ملاقاتوں میں بھی بار بار اسلام زیر بحث آنے لگا۔ اس طرح کسی تبلیغی منصوبہ کے بغیر دعوتی عمل تاتاریوں کے درمیان مکمل طور پر جاری ہو گیا۔
اس کے بعد ان کے اسلام قبول کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اولاً ان کے حکمرانوں اور سرداروں نے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد عام تاتاریوں نے اس کی پیروی کی۔ یہاں تک کہ ان کی اکثریت اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے استنبظام کی عمارت کو ڈھایا تھا وہی دوبارہ اسلام کی عمارت تعمیر کرنے والے بن گئے۔ اسلام ایک ناقابل تسخیر طاقت ہے۔ اسلام صرف اپنوں کو متاثر نہیں کرتا بلکہ غیروں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ حتی کہ ان لوگوں کو بھی جو کسی وجہ سے بظاہر اس کے دشمن بن گئے ہوں۔
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues