بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۵
کو مجاہدانہ زندگی گزارنے کی فکری تربیت ہے۔
ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ بمبئی میں کس مسلم تنظیم کا زیادہ اثر ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی کا نہیں۔ صرف یہ ہے کہ کوئی قومی اشو کھڑا ہوتا ہے تو اس کے نام پر کوئی تنظیم یا جماعت وقتی طور پر کچھ بھیڑ اکٹھا کر لیتی ہے۔ اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۲۰ جنوری کو مغرب کی نماز آدرش نگر میں پڑھی۔ یہاں مسجد کے ساتھ ایک رہائشی مدرسہ قائم ہے۔ اس میں اس وقت ۷۵ لڑکے زیر تعلیم ہیں اور چار استاد ہیں۔ اس کو جناب جی ایم صدیقی نے بنایا ہے اور وہی اس کو چلا رہے ہیں۔
جی ایم صدیقی صاحب نے بتایا کہ جنوری ۔ فروری ۱۹۹۳ میں جب بمبئی میں فساد ہوا تو مدرسہ کے بارہ میں ہم لوگوں کو تشویش پیدا ہوئی۔ کچھ مسلمانوں نے مشورہ دیا کہ مدرسہ کے بچوں کو یہاں سے دوسرے مقام پر منتقل کر دیا جائے۔ مقامی ہندوؤں کو جی ایم صدیقی اور ان کے دوستوں کی پریشانی کا علم ہوا تو یہ ہند و مسٹر صدیقی سے ملے اور کہا کہ آپ لوگ نہ پریشان ہوں اور نہ کہیں اور منتقل ہوں ۔ ان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے امن کمیٹی بنائی اور ڈیڑھ ماہ تک رات دن گھوم گھوم کر علاقہ کا پہرہ دیتے رہے ۔ ایک مجلس میں جناب محمود ایوبی صاحب (صحافی) بھی تھے۔ ایک صاحب نے فسادات وغیرہ کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا: زلزلہ آیا کرے ، مکان پھر بنالیں گے ۔ جناب جی ایم صدیقی صاحب نے آج رات کے کھانے پر تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بلایا تھا۔ یہاں تقریباً دو گھنٹہ کی نشست میں مجھے اظہار خیال کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا اصل مسئلہ اسلام کی از سر نو تعبیر (reinterpretation) کا مسئلہ ہے۔ آج کا زمانہ پوری طرح ایک بدلا ہوا زمانہ ہے ۔ اب نئے حالات کے لحاظ سے اسلام کی ابدی تعلیمات کی از سر نو تشریح کرنا ہے ۔ تاکہ دور جدید میں بھی اسلام پوری طرح ایک قابل عمل نظریہ دکھائی دینے لگے (اس معاملہ کی تفصیل " فکر اسلامی " میں دیکھی جا سکتی ہے)
مہاراشٹر کے سابقہ الیکشن پر کچھ لوگوں سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اس کا ایک سبق یہ ہے کہ الکشن تقریریں ہمیشہ بے حقیقت ہوتی ہیں۔ مثلاً ۱۹۹۵ کے اس الیکشن
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues