Al-Risala · March 1998 · page 34

بمبئی کا سفر

الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۴

کے خلاف چیخ پکار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔ کیونکہ وہ تو جاری رہے گا۔ ہمارے نوجوان جوان کا شکار ہورہے ہیں اس کی اصل وجہ ان کا چیپ ٹیسٹ ہے۔ ہمیں ان کے ٹیسٹ کو اونچا کرنا ہوگا۔ مثلاً میرا اپنا حال خدا کے فضل سے یہ ہے کہ میرا انٹلکچول لیول اتنا بلند ہو چکا ہے کہ میں اس قسم کی چیزوں سے انجوائے نہیں کر سکتا۔ اس لیے میں ان کا شکار بھی نہیں ہوتا۔ یہی اس مسئلہ کا حل ہے۔

۲۰ جنوری کو ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کا دین انٹرسٹ (مفاد) ہے۔ آج ہر آدمی ، خواہ وہ ایک مذہب کا ہو یا دوسرے مذہب کا، صرف انٹرسٹ کے ٹرم میں سوچتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کسی کا انٹرسٹ دولت ہے اور کسی کا انٹرسٹ قیادت اور مقبولیت۔ یہ مزاج اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ اگر کوئی شخص انٹرسٹ کے خلاف بول رہا ہو تو سمجھ لیجئے کہ اس میں بھی اس کا کوئی انٹرسٹ شامل ہوگا۔

۲۷ جنوری کو جمعہ کا دن تھا۔ ہوٹل میں لوگ ملاقات کے لیے آتے رہے اور ان سے ملی اور ملکی مسائل پر گفتگو ہوتی رہی۔ جمعہ کی نماز ماڈرن ڈیری کی مسجد میں پڑھنا تھا۔ جب ہماری گاڑی ہوٹل سے مسجد کے لیے روانہ ہوئی تو راستہ میں میں نے دیکھا کہ ہمارے سامنے جو گاڑی جارہی ہے اس کی باڈی کے پیچھے لکھا ہوا ہے محفوظ دوری پر رہو (Keep safe distance) میں نے سوچا کہ یہی کامیاب زندگی کا اصول ہے۔ اس دنیا میں سڑک پر محفوظ سفر کے لیے بھی یہی واحد اصول ہے، اور زندگی کے وسیع تر سفر میں بھی۔ یہی واحد کار آمد اصول ہے۔

ماڈرن ڈیری کی مسجد میں مولانا شمس الحق قاسمی امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ یہاں جمعہ کی نماز پڑھی۔ نماز سے پہلے آدھ گھنٹہ کی تقریر رکھتی۔ یہ بتانے کی کوشش کی کہ مسجد انسان سازی کا تربیتی مرکز ہے۔ یہاں انسان کے اندر وہ اوصاف پیدا کیے جاتے ہیں جو دینی اور دنیوی اعتبار سے بہتر زندگی گزارنے کی کلید ہیں ۔

مسجد میں بہت سے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ مولانا مظاہر الحق قاسمی (۲۷ سال) رُدر پور ضلع نینی تال) میں رہتے ہیں۔ وہ کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ الرسالہ سے آپ نے کیا سبق لیا۔ انھوں نے کہا کہ مجاہدانہ زندگی ۔ الرسالہ آدمی

‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues

Printed page