بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۷
تھا۔ جب وہ بنایا گیا، اس وقت وہ انگریز کے داخلہ ہند کا پر عظمت نشان تھا۔ آج وہ علی طور پر انگریز کی ملک سے واپسی کی پر حسرت یادگار بن چکا ہے۔
یہی اس دنیا کے لیے خدا کا تاریخی قانون ہے۔ اس قانون میں کسی کا استثناء نہیں ، خواہ وہ ایک قوم ہو یا کوئی دوسری قوم۔
۲۷ جنوری کو صبح سویرے نیند کھل گئی۔ فجر کی نماز کے بعد کچھ دیر تک ٹہلتا رہا۔ ہوٹل کے پاس بچوں کا ایک اسکول ہے۔ اس سے بندے ماترم کے گانے کی آواز آ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ وہ انسان بھی کیسا عجیب ہے جو مخلوق کی حمد گاتا ہے، لیکن خدا کی حمد گانے کی تڑپ اس کے اندر پیدا نہیں ہوتی۔
چائے پینے کے بعد ہاتھ روم گیا۔ میرا معمول ہے کہ صبح کو فراغت کے بعد وضو کرتا ہوں اور پر سکون کے عالم میں دو رکعت نماز ادا کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں۔ آج صبح ۸ بجے ہوٹل کے کمرہ میں حسب معمول نیت باندھ کر کھڑا ہوا تو قرآن کا ایک حصہ پڑھتے ہوئے اچانک آواز بلند ہو گئی ۔ میں تقریباً گونج دار آواز میں قرآن کی تلاوت کرتا رہا۔ یہ ایک قسم کا غیر شعوری عمل تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ باہر کی دنیا کے مشرکانہ شور و غل کو سن کر میرا جذبہ توحید جاگ اٹھا اور بے ساختہ طور پر میں کتاب توحید کو اعلان کے انداز میں اپنی زبان سے دہرانے لگا۔ ۲۸ جنوری کی صبح کو ۹ بجے ایک پروگرام تھا۔ یہ نیشنل ویمنزپالی ٹکنک (قائم شده ۱۹۸۰ء) میں تھا۔ یہاں لڑکیوں کی تعداد تقریباً ۷۰۰ ہے۔ خواتین ٹیچر کی تعداد ۲۵ ہے۔ یہ مسٹرجی ایم صدیقی کی محنتوں سے قائم ہوا ہے۔ یہاں ہوم سائنس کے مختلف موضوعات پڑھائے جاتے ہیں۔ ان میں سلائی سے لے کر کمپیوٹر تک تمام ضروری فنون شامل ہیں۔
اس کا معیار نہایت اعلیٰ ہے۔ چنانچہ یہاں کے ایک ایجوکیشن افسر نے ایک بار مسٹر جی ایم صدیقی کو بلایا۔ اس نے کہا کہ ہم اکثر اسکول کے ذمہ داروں کو شکایت کے لیے بلاتے ہیں۔ مگر آپ کو ہم نے اس لیے بلایا ہے کہ ہم آپ کے کام کا اعتراف اور قدر دانی کریں۔ یہ بچیاں زیادہ تر کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ نسیم علی خان صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ آمدنی کا کوئی تعلق تعلیم سے نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایک
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues