بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۳۸
سبق آموز واقعہ سنایا۔ نومبر 1993 میں لاتور کے علاقہ میں سخت زلزلہ آیا جس میں بستیاں تباہ ہوگئیں ۔ اس میں جو لوگ بری طرح متاثر ہوئے ان میں سے ایک 16 سالہ لڑکا سنجے تھا، اس کا گھر تباہ ہوگیا۔ اس کے باپ نے بستی سے باہر جنگل میں ایک معمولی ٹینٹ میں اس کو رکھ دیا۔ سنجے کے حالات آخری حد تک خراب ہو گئے تھے ۔ مگر یہی لڑکا ہے جس نے اُس سال ہائی اسکول کے امتحان میں پورے مہاراشٹر میں ٹاپ کیا۔
سنجے نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ جنگل کے ٹینٹ میں جانا میرے لیے ایک ایڈوانٹیج بن گیا۔ وہاں کوئی دوست یا رشتہ دار ملنے والا نہیں تھا ، نہ ٹی وی جیسی کوئی اور چیز ، اس طرح سارا وقت پڑھنے کے لیے مل گیا۔ نسیم صاحب نے جگہ کا نام بتائے بغیر یہ قصہ سنایا ۔ پھر طالبات سے پوچھا کہ بتائیے یہ بچہ کہاں کا تھا ۔ ایک لڑکی نے اٹھ کر کہا کہ لاتور کا ۔ جناب اقبال صاحب نے فوراً پچاس روپیہ اپنی جیب سے نکالا اور اس لڑکی کو بطور انعام دیا۔
میں نے اپنی تقریر میں تعلیم کی اہمیت بتائی۔ میں نے کہا کہ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے وہ گویا خدا کا ایک پودا ہے۔ اس کو بڑھ کر پورا درخت بننا ہے ۔ پودے کو درخت بنانے کا یہ عمل تعلیم کے ذریعہ انجام پاتا ہے۔ تعلیم کا یہ کام بے حد نازک بھی ہے اور بے حد اہم بھی ۔ ضرورت ہے کہ اس کو پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیا جائے ۔
تقریب کے بعد ہم لوگوں کو مدرسہ کی کلاسیں دکھائی گئیں ۔ ایک بعد ایک تمام کلاس دیکھیں ۔ اس دوران ہم لوگ جب کسی کمرہ میں داخل ہوتے تو وہاں کی طالبات کھڑی ہو جاتیں اور بلند آواز سے کہتیں السّلام علیکم۔
مگر ایک کمرہ میں ایسا نہیں ہوا ۔ ہم لوگ حسب معمول اس کے اندر داخل ہوئے۔ لیکن تمام لڑکیاں اپنی اپنی میز پر جھکی ہوئی لکھنے میں مشغول رہیں ۔ کسی ایک نے بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ اٹھ کر ہم کو سلام کرے یا ہماری طرف دیکھے۔
میں نے جاننا چاہا کہ اس فرق کا سبب کیا ہے ۔ معلوم ہوا کہ اس کمرہ میں جو لڑکیاں تھیں وہ دراصل ٹیسٹ دے رہی تھیں ۔ ان کے ذہن میں یہ تھا کہ ہمارے پاس صرف ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت ہے، وہ ایک منٹ کھوئے بغیر اپنے اس وقت کو استعمال کرنا چاہتی تھیں۔ میں نے سوچا کہ یہی ہر
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues