سفینہ بنا رکھیں طوفان سے پہلے
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۵
پیغام بلاشبہ موت کی خبر سے زیادہ بڑا ہے۔ میرے پاس مادی طاقت یں مگر میرے پاس اخلاقی طاقت کا نسخہ ہے۔
عیسیسی: اس دنیا میں ہمیشہ پرابلم کے ساتھ سولیوشن موجود ہوتا ہے۔ اجودھیا کے واقعہ میں بھی مائنس پوائنٹ کے ساتھ پلس پوائنٹ موجود ہے ۔
زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ آگ جلاتی ہے، اس سے زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ یہاں پانی ہے جس سے ہم آگ کو بجھا سکتے ہیں۔ زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ جسم کو زخم لگتا ہے، زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ جسمانی نظام میں سیلنگ پر اس ہے جو زخم کا اندمال کرتا ہے۔ نہ زیادہ بڑی بات یہ نہیں کہ درخت کے پتے جھڑتے ہیں، زیادہ بڑی بات یہ ہے کہ دوبارہ ہری پتیاں نکل آتی ہیں"
موجودہ سفر میں اندازہ ہوا کہ میرا مذکورہ اندازہ اب بمبئی میں ایک واقعہ بن چکا ہے۔ ۶ دسمبر کا حادثہ یہاں کے مسلمانوں کے لیے ایک تازیانہ ثابت ہوا۔ آج وہ ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ بہتر ہیں ۔
یکم فروری ۱۹۹۵ کی صبح کو بمبئی سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایر لائنز کے ذریعہ طے ہوا۔ راستہ میں کچھ اخبارات دیکھے۔ ایک اخبار میں ایک پرائیوِیٹ ایر لائنز کا اشتہار تھا۔ اس میں ایر لائنز کے بارے میں مختلف تفصیلات دی گئی تھیں۔ مثلاً یہ کہ " آج ہم بھارت کے مختلف حصوں سے روزانہ ۲۵ مقامات سے ۲۷، کمرشیل پروازیں کرتے ہیں" اس میں مزید بتایا گیا تھا کہ :
" ہر قسم کی خرابی سے مبرا دس طیاروں کا شاندار بیڑا جس کی بہترین نگہداشت کے لیے ہی ایک کروڑ امریکی ڈالر کے فاضل پرزے اسٹاک کیے گئے ہیں"
یہ زندگی کا ایک قانون ہے جس کا تعلق صرف ہوائی جہاز سے نہیں ہے بلکہ تمام معاملات سے ہے۔ جو لوگ پیشگی تحفظ کی اس تدبیر کو اختیار کر سکیں وہی اس دنیا میں کامیابی کے ساتھ منزل پر پہنچتے ہیں۔ اسی کو شاعر نے ان لفظوں میں بیان کیا :
سفینہ بنا رکھیں طوفان سے پہلے
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues