بمبئی کا سفر
الرسالہ، مارچ ۱۹۹۸، صفحہ ۴۴
انڈیا ایسا ہی ہوگا۔ لیکن آج کے انڈیا کے لیے کُر کر کے کی بات ایک ایکسپورٹ آئٹم ہے وہ لوکل کنزپشن کی چیز نہیں۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ کے جتنے بھی رہنما ہیں، مثلاً سید جمال الدین افغانی، محمد اقبال، ابوالکلام آزاد، سید قطب، سید ابوالاعلیٰ مودودی، سید ابوالحسن علی ندوی، ان میں سے ہر ایک نے امت کے احیاء کا راز یہ سمجھا کہ امت کے اندر امامت اور قیادت کا شعور جگایا جائے۔ مگر یہ الٹی خوراک تھی۔ کوئی بھی نظام، خواہ وہ سیکولر ہو یا دینی، ایسے لوگوں کے درمیان نہیں چل سکتا جہاں ہر شخص قائدانہ حوصلہ اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہو۔ ایک لاکھ آدمی ہوں تو 99999 آدمی کو مقتدی بننا پڑتا ہے تب یہ ممکن ہوتا ہے کہ ایک شخص آگے کھڑے ہو کر ان کی امامت کرے ۔ یہ سبق جو ہر روز نماز میں دیا جاتا ہے یہی کامیاب نظام کا راز بھی ہے۔ جس سماج کے لوگ ماتحتی قبول کرنے پر راضی ہوں انھیں کے یہاں کوئی صحیح نظامِ اقتدار قائم ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، جہاں ہر آدمی حاكم بننا چاہتا ہو وہاں وہی خلفشار وجود میں آتا ہے جو آج ہمارے ہر ادارہ میں چھوٹی سطح پر اور افغانستان اور پاکستان جیسے ملکوں میں زیادہ بڑی سطح پر دکھائی دے رہا ہے۔
موجودہ زمانہ کی تحریکوں نے پوری ملت کو قیادت پسند ملت بنا دیا ہے۔ یہی تمام باہمی جھگڑوں کی جڑ ہے۔ اگر نماز با جماعت والی ا سپرٹ لوگوں کے اندر جگائی جاتی تو تمام لوگ اقتداء پسند ہوتے اور پھر اپنے آپ وہ چیز وجود میں آ جاتی جس کو متحدہ طاقت کہا جاتا ہے۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے حادثہ کے فوراً بعد میں بمبئی گیا تھا جب کہ وہاں فساد ہو گیا تھااور ابھی کر فیونافذ تھا۔ اس موقع پر پولیس کی خصوصی اجازت سے مدھو مهتا (وفات ۲۷ اگست ۱۹۹۵) وغیرہ نے ایک جلسہ کرایا، اس موقع پر اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے میں نے کہا تھا :
"بمبئی کے بھائیو اور بہنو، ہم ایک ایسے وقت میں آپ کے پاس آئے ہیں جبکہ آپ ایک بڑے صدمہ سے دوچار ہوئے ہیں۔ مگر میں اعتراف کرتا ہوں کہ میرے پاس دعاؤں اور آنسوؤں کے سوا کوئی اور چیز دینے کے لیے نہیں۔ اس جنونی دور میں آپ کا جو نقصان ہوا اس کو میں آپ کی طرف لوٹا نہیں سکتا۔ مگر میرے پاس زندگی کا ایک پیغام ہے اور زندگی کا
‹ Previous page Next page › Contents of March 1998 All issues